کاری قرار دے کر قتل کا معاملہ: آئی جی سندھ کا نوٹس، متعلقہ ایس ایچ او معطل

خیرپور کاروکاری کیس، خالدہ چانڈیو قتل، آئی جی سندھ کا ایکشن Khairpur karo kari case, Khalida Chandio murder, IG Sindh action

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی میں کاروکاری کے الزام میں قتل ہونے والی مسماۃ خالدہ چانڈیو کیس میں پولیس کی مبینہ غیر پیشہ ورانہ اور غیر ذمہ دارانہ کارکردگی پر سخت نوٹس لیتے ہوئے تھانہ ٹنڈو مستی خان کے ایس ایچ او انسپکٹر محمد ہاشم ہکڑو کو فوری طور پر معطل کرکے بی کمپنی رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا۔

ترجمان سندھ پولیس کے مطابق آئی جی سندھ نے معطل شدہ ایس ایچ او کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کرنے اور اسے کیس کی تفتیش میں شامل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس کے لیے بدنامی کا باعث بننے والے افسران و اہلکاروں کے لیے ادارے میں کوئی گنجائش نہیں، جبکہ محکمہ کی ساخت کو نقصان پہنچانے والی “کالی بھیڑوں” کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واقعہ کیسے ہوا

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ضلع خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی میں پیش آنے والے دلخراش واقعے نے ملک بھر میں شدید ردعمل پیدا کر رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسماۃ خالدہ چانڈیو کو مبینہ طور پر کاروکاری کے الزام میں جرگے کے فیصلے کے بعد قتل کیا گیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد واقعہ منظر عام پر آیا۔

ذرائع کے مطابق مقتولہ نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی، تاہم بعد ازاں اسے واپس گاؤں لایا گیا جہاں مقامی بااثر افراد کی موجودگی میں جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے کے مبینہ فیصلے کے تحت خاتون کو “کاری” قرار دے کر قتل کیا گیا۔ واقعے میں ملوث افراد نے فائرنگ کر کے اسے قتل کیا جبکہ متعدد افراد موقع پر موجود تھے۔

پولیس کارروائی

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور مختلف چھاپوں کے دوران متعدد ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔ مرکزی ملزمان سمیت دیگر افراد سے تفتیش جاری ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

ادھر پولیس کے ابتدائی ردعمل میں تاخیر اور مبینہ غفلت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس کے باعث اعلیٰ حکام کو مداخلت کرنا پڑی۔ آئی جی سندھ کی جانب سے ایس ایچ او کی معطلی کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ واقعے کی شفاف تحقیقات یقینی بنائی جا سکیں۔

سماجی و انسانی حقوق کے حلقوں نے اس واقعے کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف قاتلوں بلکہ ایسے جرگہ سسٹم کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے جو اس قسم کے فیصلوں کا سبب بنتا ہے۔

سندھ میں کاروکاری کیسز

واضح رہے کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں کاروکاری کے نام پر قتل کے واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں اور ان واقعات کو روکنے میں انتظامیہ بے بس نظر آتی ہے۔ 

سندھ پولیس کے ریکارڈ اور میڈیا کے مطابق گزشتہ چار برس (2022 تا 2025) میں مجموعی طور پر 595 افراد کاروکاری کے الزامات کے تحت قتل کیے گئے، جن میں 466 خواتین اور 129 مرد شامل ہیں۔ 

ریکارڈ کے مطابق 2022 میں 114 افراد کو 102 واقعات میں قتل کیا گیا، 2023 میں 167 افراد 151 واقعات میں مارے گئے، 2024 میں 152 افراد  132 واقعات میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، اور2025 میں 162 افراد کو 140 واقعات میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ہر سال یہ واقعات حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والےاداروں کے لے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.