وائٹ ہاؤس ڈنر میں فائرنگ کا ملزم کون ہے، تفصیلات سامنے آگئیں

Suspect Cole Tomas Allen identified in White House dinner shooting. Investigations underway as the 31-year-old teacher faces federal charges.

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیے کے دوران فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ہفتے کی رات پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پولیس اور خفیہ اداروں نے مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

ملزم کون ہے؟

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق، گرفتار ملزم کی شناخت 31 سالہ 'کول ٹامس ایلن' (Cole Tomas Allen) کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق کیلیفورنیا کے شہر ٹورینس سے ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ایلن ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہے جس نے معروف تعلیمی ادارے 'کالٹیک' (Caltech) سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز بھی کر چکا ہے۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ ایک پارٹ ٹائم ٹیچر اور گیم ڈویلپر کے طور پر کام کر رہا تھا۔

تحقیقات اور اب تک کی کارروائی

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں بطور مہمان ٹھہرا ہوا تھا، جس کی وجہ سے وہ سکیورٹی کے بیرونی حصوں کو عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ عینی شاہدین اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق، ملزم نے میٹل ڈیٹیکٹرز کے قریب پہنچ کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک سیکرٹ سروس ایجنٹ زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔

واشنگٹن ڈی سی کے قائم مقام پولیس چیف جیفری کیرول نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم کے قبضے سے ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چاقو برآمد ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک حملے کا کوئی واضح مقصد (Motive) سامنے نہیں آیا ہے اور اس بات کی جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا ملزم اکیلا تھا یا اس کے ساتھ کوئی اور بھی شامل تھا۔

امریکی اٹارنی کے مطابق، ملزم کول ٹامس ایلن پر وفاقی افسر پر حملے اور پرتشدد جرم کے دوران اسلحہ استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔ اسے پیر کے روز عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو واقعے کے وقت وہاں موجود تھے، محفوظ رہے اور انہوں نے سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی کی تعریف کی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) اس واقعے کی مزید گہرائی سے تفتیش کر رہا ہے تاکہ حملے کے پیچھے چھپے اصل محرکات کو بے نقاب کیا جا سکے

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.