آرٹیمس II مشن: انسان نے چاند کے گرد تاریخی سفر مکمل کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
ناسا کے تاریخی 'آرٹیمس II' مشن کے چار خلابازوں نے پیر کے روز چاند کے گرد اپنا سفر کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ اس مشن کے چھٹے دن خلابازوں نے زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر جانے کا نیا عالمی ریکارڈ بھی بنا دیا ہے۔ یہ 1972 کے بعد پہلا موقع ہے جب انسان چاند کے اتنے قریب پہنچا ہے۔
تفصیلات اور ریکارڈ:
اس مشن میں ناسا کے تین خلاباز ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلائی ایجنسی کے جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ پیر کی دوپہر ان خلابازوں نے زمین سے 2 لاکھ 48 ہزار 655 میل کا فاصلہ عبور کر کے اپالو 13 کا پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔ مشن کے دوران اورین (Orion) خلائی جہاز چاند کی سطح سے صرف 4,067 میل اوپر سے گزرا۔ اس دوران خلابازوں نے چاند کے اس حصے (Far Side) کی تصاویر بھی لیں جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
چاند کا نظارہ اور سائنسی مشاہدات:
خلابازوں نے چاند کی سطح پر موجود گڑھوں، قدیم لاوے کے بہاؤ اور دراڑوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔ انہوں نے چاند کے پیچھے سے زمین کو نکلتے (Earthrise) اور ڈوبتے (Earthset) ہوئے بھی دیکھا۔ اس سفر کے دوران ایک دلچسپ مرحلہ وہ تھا جب خلابازوں نے سورج گرہن کا مشاہدہ کیا اور چاند کی سطح پر شہاب ثاقب کے گرنے سے پیدا ہونے والی چھ روشنیوں (Flashes) کی نشاندہی بھی کی۔
صدر ٹرمپ کی مبارکباد:
اس تاریخی کامیابی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلابازوں سے براہ راست رابطہ کیا اور انہیں اس اہم سنگ میل پر مبارکباد دی۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر نے بھی خلابازوں کی ہمت اور سائنسی مہارت کو سراہا۔ خلاباز اب زمین کی طرف واپسی کے سفر پر ہیں اور منگل کے روز وہ اپنی تمام تر تفصیلات ناسا کی سائنسی ٹیم کے ساتھ شیئر کریں گے۔
مستقبل کا لائحہ عمل:
اس مشن کی کامیابی سے انسانوں کے دوبارہ چاند پر اترنے اور وہاں مستقل قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ ناسا کے مطابق حاصل کردہ ڈیٹا اور تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد مستقبل کے مشن 'آرٹیمس III' کی تیاری شروع کی جائے گی جس کا مقصد انسان کو چاند کی سطح پر اتارنا ہے۔

Post a Comment