حکومت سندھ نے 10 اسپورٹس کامپلیکسز کو کلبز کا درجہ دے دیا، اپنی کرکٹ ٹیم بھی بنے گی
حکومت سندھ کے محکمہ کھیل نے صوبے بھر میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 10 اسپورٹس کامپلیکسز کو اپ گریڈ کر کے باقاعدہ 'اسپورٹس کلبز' کا درجہ دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے تعاون سے سندھ کی اپنی کرکٹ ٹیم بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
منگل کو وزیر کھیل و امور نوجوانان سندھ سردار محمد بخش مہر کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں کھیلوں کے ڈھانچے کو بہتر بنانے اور نوجوانوں کو نئے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر، سابق قومی کرکٹرز یونس خان، صادق محمد، ڈائریکٹر اسد اسحاق اور چیف انجنیئر اسلم مہر نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر نے صوبے کے 10 اسپورٹس کامپلیکسز کو کلبز میں تبدیل کرنے کی باضابطہ منظوری دی۔ ان مراکز میں کراچی کے علاقے گلستان جوہر، ناظم آباد کے علاوہ سکھر اور حیدرآباد سمیت دیگر شہروں کے کلبز شامل ہیں۔ اب ان شہروں کے نوجوان اور عام شہری ان کلبز کی ممبر شپ حاصل کر سکیں گے، جس سے انہیں کھیلوں کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ پی سی بی کے تعاون سے سندھ کی اپنی کرکٹ ٹیم بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جو پاکستان کپ جیسے بڑے مقابلوں میں شرکت کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ پر کیا جائے گا تاکہ بہترین ٹیلنٹ سامنے آ سکے۔ اس موقع پر سابق کپتان یونس خان کا کہنا تھا کہ سندھ کے نوجوانوں میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جسے صحیح پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔
سردار محمد بخش مہر نے اختتامی گفتگو میں کہا کہ ہمارا مقصد سندھ کے نوجوانوں کو میرٹ پر مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر صوبے کا نام روشن کر سکیں۔ اسپورٹس کامپلیکسز کو کلبز کا درجہ دینے سے کھیلوں کا کلچر گراس روٹ لیول پر مضبوط ہوگا۔

Post a Comment