ایران، حزب اللہ اور یمن کے اسرائیل پر مشترکہ حملے، پیٹاہ تیکوا میں ڈرون فیکٹری اور دفاعی تنصیبات تباہ

Israeli drone factory destroyed in missile attack

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ اختیار کر گئی ہے جہاں جمعہ کے روز ایران، لبنان کی تنظیم حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں نے مل کر اسرائیل پر تین مختلف محاذوں سے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

 ان حملوں میں تل ابیب کے قریبی صنعتی شہر پیٹاہ تیکوا (Petah Tikva) کو شدید نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی ایک اہم ڈرون تیار کرنے والی فیکٹری اور دیگر دفاعی تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق، لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران اسرائیلی بستیوں اور فوجی ٹھکانوں پر ریکارڈ 55 حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں کئی راکٹوں اور خودکش ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جس نے شمالی اسرائیل کے دفاعی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

 حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی لبنانی علاقوں پر اسرائیلی بمباری اور غزہ کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے کی گئی ہے۔ ان حملوں کے باعث شمالی اسرائیل کے کئی شہروں میں آگ لگنے اور عمارتوں کے گرنے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب، یمن سے حوثی باغیوں نے بھی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے جنوبی اور وسطی حصوں کو نشانہ بنایا۔ حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایران اور حزب اللہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے تحت 'یافا' (تل ابیب) کے اہم مقامات پر میزائل داغے ہیں۔

 ادھر ایران نے بھی اسرائیل میں موجود فوجی اڈوں اور خلیج میں قائم امریکی تنصیبات پر براہِ راست حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس سے خطے میں موجود عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، پیٹاہ تیکوا میں ہونے والے دھماکے اتنے شدید تھے کہ ان کی آواز میلوں دور تک سنی گئی، اور وہاں واقع ڈرون مینوفیکچرنگ یونٹ کی عمارت کا ایک بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ اسرائیلی حکومت نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر سخت سنسر شپ عائد کر رکھی ہے، تاہم آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ میزائلوں کے ٹکڑے گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ تین اطراف سے ہونے والے یہ مربوط حملے اسرائیل کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام 'آئرن ڈوم' کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے جاری بیانات میں صورتحال کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔

تہران نے واضح کیا ہے کہ اگر ان کے خلاف جارحیت نہ رکی تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام مغربی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فی الحال صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر زمینی جنگ کے آغاز کا خدشہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.