پاکستان اسٹاک ایکسچینج: سرمایہ کاروں میں بے یقینی، مارکیٹ میں 1,600 سے زائد پوائنٹس کی مندی

Pakistan stock exchange

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کے روز کاروباری ہفتے کے اختتام پر شدید مندی دیکھی گئی، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس (KSE-100) میں 1,612 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ میں مندی کا یہ رجحان عالمی سیاسی صورتحال اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث پیدا ہونے والی بے یقینی کی وجہ سے دیکھا گیا۔

آج کاروبار کے آغاز سے ہی مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 150,398.71 کی سطح پر بند ہوا، جو کہ گزشتہ روز 152,011.26 پر تھا۔ اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس میں بھی 522 پوائنٹس کی کمی ہوئی اور وہ 45,453.36 پر بند ہوا۔ مارکیٹ میں آج مجموعی طور پر47 کروڑ 19 لاکھ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا، جس کی مجموعی مالیت 24 ارب 64 کروڑ روپے سے زائد رہی۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق، مارکیٹ میں گراوٹ کی بڑی وجہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہے، جس سے افراطِ زر (مہنگائی) بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انہوں نے شیئرز کی فروخت کو ترجیح دی۔

آج سب سے زیادہ کام 'سنیرجی کو پی کے' (Cnergyico PK) کے شیئرز میں ہوا، جہاں 9 کروڑ 72 لاکھ سے زائد شیئرز کا کاروبار ہوا۔ اس کے علاوہ 'ورلڈ کال ٹیلی کام' اور 'پاکستان ریفائنری' بھی نمایاں رہے۔ اگرچہ مارکیٹ مجموعی طور پر مندی کا شکار رہی، تاہم 'یونی لیور فوڈز' اور 'اٹک ریفائنری' کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین عالمی تیل کی قیمتوں اور ملکی معاشی فیصلوں پر ہوگا۔ اگر حکومت کی جانب سے معیشت کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کیے گئے تو مارکیٹ میں دوبارہ تیزی آنے کی امید کی جا سکتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.