ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ: ایرانی صدر جنگ بندی کے خواہشمند
بدھ کے روز اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ 'ٹروتھ سوشل' پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی صدر نے اس حوالے سے پیغام بھیجا ہے، تاہم ایران کی جانب سے باضابطہ طور پر ابھی تک اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "ایران کی نئی حکومت کے صدر" جنگ بندی کے لیے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ صرف اپنی شرائط پر ہی کسی معاہدے پر غور کرے گا۔
دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان دعووں کے برعکس موقف اختیار کیا ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تہران کسی دباؤ یا دھمکیوں کے زیر اثر مذاکرات نہیں کرے گا اور فی الحال جنگ بندی کی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی خطے میں جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے عالمی معیشت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

Post a Comment