امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی میزبانی میں مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں پیر کو متوقع

اسلام آباد مذاکرات: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی۔ US-Iran peace talks in Islamabad.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی حکم پر ایک اعلیٰ سطح کا امریکی مذاکراتی وفد پیر کی شام پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ یہ وفد ایران کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کو ختم کرنے اور ایک مستقل امن معاہدے کی کوششوں کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی ختم ہونے میں صرف دو دن باقی رہ گئے ہیں۔

تازہ ترین صورتحال اور مذاکرات کا ایجنڈا

 اسلام آباد پہنچنے والے امریکی وفد میں محکمہ خارجہ کے اعلیٰ حکام، وائٹ ہاؤس کے سٹرٹیجک مشیر اور دفاعی ماہرین شامل ہونے کی امید ہے۔اگرچہ پہلے نائب صدر جے ڈی وینس کی آمد متوقع تھی، تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر اب یہ وفد خصوصی سفارتی نمائندوں پر مشتمل ہے۔ مذاکرات کا یہ دور انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے اور اس کی نشستیں اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ایک محفوظ مقام پر ہوں گی۔

مذاکرات کے اس مرحلے میں میز پر رکھے گئے اہم ترین نکات درج ذیل ہیں:

  1. مستقل جنگ بندی: عارضی طور پر رکی ہوئی فوجی کارروائیوں کو ایک طویل مدتی معاہدے میں بدلنا۔
  2. جوہری معائنہ: ایران کی ایٹمی تنصیبات تک بین الاقوامی مبصرین کی فوری اور غیر مشروط رسائی۔
  3. معاشی پابندیوں کا خاتمہ: ایران کا مطالبہ ہے کہ اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور تیل کی تجارت پر لگی پابندیاں ختم کی جائیں۔
  4. قیدیوں کا تبادلہ: دونوں ممالک کے درمیان زیر حراست افراد کی رہائی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا الٹی میٹم اور سخت لہجہ

مذاکرات کے آغاز سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایران کو کڑی وارننگ جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے اس بار امریکہ کی پیش کردہ "بہترین ڈیل" کو قبول نہ کیا تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ "ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ہماری نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ اگر ایرانی قیادت نے عقل مندی کا ثبوت نہ دیا تو امریکہ ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے میں دیر نہیں کرے گا۔"

صدر ٹرمپ کا یہ بیان مذاکرات کی میز پر ایرانی وفد پر دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔تاہم ایران کے رہنماوں نے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے کہ وہ امریکی صدر کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گےاور اپنے اصولی موقف پر قائم رہیں گے۔

اسلام آباد میں غیر معمولی سیکیورٹی اور انتظامات

وفاقی دارالحکومت میں اس وقت جنگ جیسی صورتحال کا سماں ہے لیکن یہ جنگ سفارتی محاذ پر لڑی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 'ہائی الرٹ' جاری کر دیا ہے۔ وفد کے روٹ اور مذاکرات کے مقام پر رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق، تمام غیر ملکی مہمانوں کو وی آئی پی پروٹوکول اور فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ریڈ زون کی طرف غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ کئی شاہراہوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ یہ تمام اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ مذاکرات کا یہ اہم عمل بغیر کسی خلل کے مکمل ہو سکے۔

پاکستان کا کلیدی کردار اور ثالثی

پاکستان اس وقت دنیا کے دو بڑے حریفوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر خارجہ نے گزشتہ کئی دنوں سے دونوں ممالک کی قیادت کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کو روکا جائے کیونکہ اس کے اثرات براہ راست پاکستان کی معیشت اور سلامتی پر پڑسکتے ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوں اور طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔" مبصرین کا خیال ہے کہ اگر پاکستان مصالحت کرانے میں  کامیاب ہو گیا تو یہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی فتح ہوگی۔

ایران کا موقف اور ردعمل

 ایران کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنی قومی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایرانی رہنماوں کا کہنا ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آرہےہیں لیکن امریکہ کو اپنی 'دھونس اور دھمکیوں' کی پالیسی ترک کرنی ہوگی۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ پہلے ان تمام وعدوں کو پورا کرے جو سابقہ معاہدوں میں کیے گئے تھے۔

ماہرین کی رائے اور معاشی اثرات

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی براہ راست عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر مذاکرات میں تعطل پیدا ہوا تو خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ اس کے برعکس، معاہدے کی صورت میں عالمی مارکیٹ میں استحکام آئے گا اور پاکستان کو سستا ایرانی تیل اور گیس ملنے کے امکانات بھی روشن ہو جائیں گے۔

مذاکرات کا پس منظر 

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے، تاہم حالیہ بحران اس وقت شروع ہوا جب دونوں ممالک کے درمیان جوہری معاہدے کے حوالے سے اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایران پر 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی پالیسی دوبارہ فعال ہو گئی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں اسلام آباد ہی میں مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، جو کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا تاکہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیا جا سکے۔ آج ہونے والے مذاکرات اسی کڑی کا دوسرا اور ممکنہ طور پر آخری حصہ ہیں کیونکہ عارضی جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے کئی بار تہران اور واشنگٹن کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور حالیہ کوششیں اسی سلسلے کا تسلسل ہیں۔

مستقبل کی ممکنہ صورتحال

آئندہ چند گھنٹے یہ طے کریں گے کہ آیا دنیا ایک نئی جنگ کی طرف بڑھے گی یا امن کا سورج طلوع ہوگا۔ اگر  مذاکرات کے نتیجے میں کسی مشترکہ اعلامیے پر اتفاق ہو جاتا ہے، تو یہ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دی جائے گی۔ بصورت دیگر، خطے میں موجود امریکی بحری بیڑے اور ایرانی میزائل فورسز الرٹ پر ہیں، جو کسی بھی وقت ایک بڑے ٹکراؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.