کراچی کی ’عوام دوست منڈی‘ میں اتوار کا میلہ: شہریوں کا سمندر امڈ آیا
روشنیوں کے شہر کراچی میں عیدِ قرباں کی آمد سے قبل ہی ’عوام دوست مویشی منڈی‘ میں رونقیں اپنے عروج پر پہنچ رہی ہیں۔ ہفتے کی بھرپور ’سیٹرڈے نائٹ‘ کے بعد اتوار کا سورج ڈھلتے ہی شہریوں نے ایک بار پھر فیملیز کے ہمراہ منڈی کا رخ کیا، جس سے تل دھرنے کی جگہ باقی نہ رہی۔
انتظامیہ کے مطابق، ملک کے طول و عرض بشمول بلوچستان، پنجاب اور اندرونِ سندھ سے آنے والے جانوروں کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس بار منڈی میں نہ صرف خریداری بلکہ تفریحی ماحول فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں فوڈ اسٹریٹ، سیلفی پوائنٹس اور ڈیجیٹل پارکنگ سسٹم شامل ہیں۔
عوام دوست منڈی: شہریوں کا پسندیدہ تفریحی مقام
کراچی کے شہریوں کے لیے مویشی منڈی محض ایک تجارتی مرکز نہیں بلکہ ایک سالانہ ثقافتی میلہ بن چکی ہے۔ اتوار کی چھٹی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں جیسے گلشنِ اقبال، ناظم آباد، ڈیفنس اور ملیر سے شہریوں کی بڑی تعداد اپنے بچوں کے ساتھ منڈی پہنچی۔ بچوں کی دلچسپی کا مرکز وہ بلاکس ہیں جہاں بلوچستان کے خوبصورت سفید بیل اور ساہیوال کی بھاری بھرکم گائیں موجود ہیں۔
نوجوانوں کی ٹولیاں ان مہنگے اور نایاب جانوروں کے ساتھ سیلفیاں بناتے اور سوشل میڈیا پر لائیو ویڈیوز شیئر کرتے نظر آئے۔ ایڈمنسٹریٹر منڈی کا کہنا ہے کہ اس بار سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ فیملیز بغیر کسی خوف و خطر کے رات گئے تک منڈی کی رونقوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔
جدید سہولیات اور آن لائن پاسز کا اجراء
ماضی میں مویشی منڈیوں میں داخلے اور پارکنگ کے مسائل شہریوں کے لیے وبالِ جان بنے رہتے تھے، تاہم ’عوام دوست منڈی‘ کی انتظامیہ نے اس بار تمام نظام کو ڈیجیٹلائز کر دیا ہے۔ پارکنگ ایریا کو مکمل طور پر فنکشنل کر دیا گیا ہے جہاں جدید کمپیوٹرائزڈ ونڈو سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔
شہریوں کو اب گھنٹوں قطار میں لگنے کی ضرورت نہیں، وہ گھر بیٹھے آن لائن پاسز حاصل کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو شہریوں نے بے حد سراہا ہے، کیونکہ اس سے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ منڈی کے داخلی راستوں پر ٹریفک کا دباؤ بھی کم ہوا ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ منڈی پاکستان کی پہلی ’اسمارٹ منڈی‘ بننے جا رہی ہے۔
بیوپاریوں کے منفرد انداز: جانوروں کا ’پرسنل سروس اسٹیشن‘
منڈی میں جہاں خریداروں کا رش ہے، وہاں بیوپاریوں کی جانب سے جانوروں کی دیکھ بھال کے منفرد انداز بھی سب کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ نواب شاہ سے آئے ایک تجربہ کار بیوپاری، فیصل، نے اپنے بلاک میں ایک چھوٹا ’سروس اسٹیشن‘ قائم کر رکھا ہے۔ فیصل کا کہنا ہے کہ ”گرمی کی شدت جانوروں کو نڈھال کر دیتی ہے، جس سے ان کی خوراک کم ہو جاتی ہے اور وہ بیمار پڑ سکتے ہیں۔ میں اپنے جانوروں کو ہفتے میں دو بار لازمی نہلاتا ہوں اور ان کے لیے ٹھنڈی ہوا کا انتظام کیا ہے“۔فیصل کے مطابق، جب جانور صاف ستھرا اور چمکدار ہوتا ہے تو خریدار بھی اس کی جانب زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ بلوچستان سے آئے دیگر بیوپاریوں نے بھی بتایا کہ وہ اپنے جانوروں کو دیسی گھی، بادام اور چنے کی خوراک دے رہے ہیں تاکہ قربانی تک ان کی صحت مثالی رہے۔
فوڈ اسٹریٹ اور معاشی سرگرمیاں
مویشی منڈی کی رونقوں میں چار چاند لگانے کے لیے ایک وسیع ’فوڈ اسٹریٹ‘ قائم کی گئی ہے جہاں کراچی کے مشہور کھانے دستیاب ہیں۔ بلال بروسٹ، چوہدری محسن اور بٹ کڑاہی جیسے نامور برانڈز نے اپنے اسٹالز لگا لیے ہیں۔ رات کے وقت جب ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں، تو بیوپاری اور شہری ان ہوٹلوں پر بیٹھ کر لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
اس بار انتظامیہ نے صفائی ستھرائی کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی ہیں جو چوبیس گھنٹے فضلے کو ٹھکانے لگانے اور جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ میں مصروف ہیں۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ منڈی میں ہوٹل کھلنے سے انہیں کھانے پینے کی سہولت ملی ہے، جبکہ شہری اسے ایک مکمل آؤٹنگ قرار دے رہے ہیں۔
ماضی کا پس منظر اور مستقبل کی توقعات
اگر ہم ماضی کی مویشی منڈیوں کا موازنہ کریں تو پہلے بنیادی سہولیات جیسے بجلی اور پانی کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہوا کرتی تھی۔ گزشتہ برسوں میں کراچی کی سپر ہائی وے منڈی میں جگہ کی تنگی اور بدانتظامی کی شکایات عام تھیں، جس کے بعد ’عوام دوست منڈی‘ کا تصور پیش کیا گیا تاکہ عام آدمی اور بیوپاری دونوں کو سہولت مل سکے۔
اس سال منڈی میں لائٹنگ کے لیے بھاری جنریٹرز اور ایل ای ڈی لائٹس کا استعمال کیا گیا ہے، جس سے رات میں بھی دن کا گمان ہوتا ہے۔ انتظامیہ کا اندازہ ہے کہ اگلے ہفتے تک جانوروں کی تعداد میں مزید 30 فیصد اضافہ ہوگا کیونکہ سندھ کے دور دراز علاقوں اور جنوبی پنجاب سے قافلے روانہ ہو چکے ہیں۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ اسی طرح تعاون کرتی رہی تو اس سال ریکارڈ فروخت متوقع ہے۔
ایک مثالی ماڈل
عوام دوست منڈی کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر منصوبہ بندی بہتر ہو تو اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی معاشی سرگرمی کو عوامی خدمت میں بدلا جا سکتا ہے۔ بیوپاریوں نے مؤثر انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ شہریوں نے منڈی کے ماحول کو فیملی فرینڈلی قرار دیا ہے۔
آنے والے دنوں میں قیمتوں کے حوالے سے بھی توقع کی جا رہی ہے کہ رسد میں اضافے کے ساتھ قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں آ جائیں گی۔ فی الحال، کراچی کی یہ منڈی ایک مکمل سیاحتی اور تجارتی مرکز کا روپ دھار چکی ہے جہاں زندگی اپنی تمام تر رنگینیوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔


Post a Comment