ارمغان قتل کیس: عدالت میں نئے حربے اور جج پر عدم اعتماد، آخر ماجرا کیا ہے؟
تحریر: ارمان صابر
کراچی کے مشہور اور دل دہلا دینے والے مصطفیٰ عامر قتل کیس نے ایک بار پھر نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ارمغان قریشی، جو اس کیس کا مرکزی ملزم ہے، اپنی چالاکیوں اور عدالت میں عجیب و غریب رویوں کی وجہ سے مسلسل خبروں میں رہتا ہے۔ حال ہی میں "ارمان صابر وی لاگز" میں سینئر صحافی فہیم صدیقی کے ساتھ ارمغان کیس کی تازہ ترین صورتحال پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے، جس سے اس کیس کے پس پردہ حقائق کا پردہ چاک ہوتا ہے۔
ارمغان قریشی کا یہ کیس شروع سے ہی متنازع رہا ہے۔ کبھی وہ خود کو ذہنی طور پر غیر مستحکم ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی ایسی باتیں کرتا ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
فہیم صدیقی کے مطابق، ارمغان پہلے ججز کو خط لکھ کر یہ دعویٰ کرتا رہا کہ اس کے پیچھے سی آئی اے اور موساد جیسی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے اور اس کے اپنے والد بھی مبینہ طور پر کسی غیر ملکی ایجنسی کے ایجنٹ ہیں۔ یہاں تک کہ اس نے جیل میں اپنے ساتھ والے قیدی پر کالا جادو کرنے کا الزام بھی لگایا۔ یہ تمام باتیں بظاہر خود کو پاگل ڈکلیئر کروانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش محسوس ہوتی تھیں۔
تاہم اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔ وہی ارمغان جو خود کو ذہنی مریض ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا، اب عدالت میں قانونی باریکیوں کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔ اس نے اب جج صاحب پر ہی عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔
اس کی تازہ ترین درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسے اس جج پر اعتبار نہیں ہے جو اس کا کیس سن رہا ہے۔ ارمغان کا الزام ہے کہ مقتول مصطفیٰ عامر کی والدہ اور جج کے درمیان مبینہ طور پر کوئی "ڈیل" ہو چکی ہے، اور اسے ڈر ہے کہ اسے انصاف نہیں ملے گا۔ اس نے باقاعدہ لکھ کر دیا ہے کہ اس کا کیس کسی دوسری عدالت میں منتقل کیا جائے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ارمغان نے اپنی درخواست میں خود کو "عاقل اور بالغ" لکھا ہے، جبکہ اس سے قبل اس کی والدہ نے عدالت میں اس کے ذہنی معائنے اور میڈیکل بورڈ بنانے کی درخواست دے رکھی تھی۔
یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ ملزم کس طرح وقت اور حالات کے مطابق اپنے بیانات بدل رہا ہے۔ فہیم صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ سب "ڈیلینگ ٹیکٹس" یعنی کیس کو طول دینے کے ہتھکنڈے ہو سکتے ہیں۔
ایک طرف ملزم جج پر اعتراض اٹھا رہا ہے، تو دوسری طرف مقتول کی والدہ نے ہائی کورٹ سے رجوع کر کے ارمغان کے خلاف تمام دیگر مقدمات (جیسے اسلحہ ایکٹ وغیرہ) بھی اسی عدالت میں منتقل کروا لیے ہیں تاکہ کیس جلد منطقی انجام تک پہنچ سکے۔
ارمغان کے وکیل کا موقف ہے کہ ہائی کورٹ کی جانب سے کیسز کی منتقلی قانونی طور پر درست نہیں ہے، جبکہ پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ یہ انتظامی جج کا اختیار ہے کہ وہ کیسز کو یکجا کر سکے۔
اب عدالت کے سامنے دو بڑی درخواستیں ہیں۔ ایک ارمغان کی جانب سے جج کی تبدیلی اور دوسری مقتول کی والدہ کی طرف سے تمام مقدمات کو ملا کر چلانے کی درخواست۔ ان درخواستوں پر آنے والا فیصلہ ہی طے کرے گا کہ اس کیس کی رفتار کیا ہوگی۔
سوشل میڈیا پر بھی اس کیس کے حوالے سے عوامی غصہ پایا جاتا ہے۔ لوگ موازنہ کر رہے ہیں کہ اگر یہ کسی طاقتور شخصیت کا کیس ہوتا تو شاید اب تک فیصلہ آ چکا ہوتا۔ نظامِ انصاف میں تاخیر اور ملزم کی جانب سے نت نئے اعتراضات مقتول کے خاندان کے لیے مزید ذہنی اذیت کا باعث بن رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت ان نئے اعتراضات کو مسترد کرتی ہے یا ارمغان ایک بار پھر کیس کو لٹکانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ انصاف کی اس جنگ میں حقائق کیا ہیں اور مستقبل کیا موڑ لیتا ہے، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Post a Comment