امریکی صدر کا جنگ بندی میں توسیع سے انکار، ایران کا جنگ بندی کی خلاف ورزی پر مذاکرات سے انکار

US President Trump not prepared to extend ceasefire deadline

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی میں مزید توسیع کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع تر جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

 یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدھ کی شام جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی ہے اور امریکی بحریہ نے بحیرہ عمان میں ایک ایرانی مال بردار بحری جہاز کو فائرنگ کے بعد اپنے قبضے میں لے کر صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر بدھ کی ڈیڈ لائن تک ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو واشنگٹن بھرپور فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دے گا۔ 

دوسری جانب، پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کا دوسرا دور بھی خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ ایران نے امریکی بحری کارروائی کو "قزاقی" قرار دیتے ہوئے شدید جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔

مذاکرات کی ڈیڈ لائن اور ٹرمپ کا سخت موقف

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو مزید وقت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم نے انہیں چودہ دن دیے، لیکن تہران نے اپنی روش نہیں بدلی۔ اگر کل شام تک کوئی حتمی اور ٹھوس معاہدہ سامنے نہیں آتا تو جنگ بندی کا باب بند سمجھا جائے۔" 

ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ پاکستان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کوشاں ہے اور اس کے وفد کا بدھ کو پاکستان آنے کا امکان ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں مزید سختی دکھاتے ہوئے کہا کہ وہ کسی "کمزور معاہدے" پر دستخط نہیں کریں گے اور اگر ضرورت پڑی تو ایران کے بنیادی ڈھانچے، بشمول بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

بحیرہ عمان میں کشیدگی: ایرانی جہاز 'توسکا' پر قبضہ

حالیہ تنازع کی سب سے بڑی وجہ بحیرہ عمان میں پیش آنے والا واقعہ ہے، جہاں امریکی بحری بیڑے نے ایرانی مال بردار جہاز 'توسکا' (Touska) کو روکنے کی کوشش کی۔ امریکی حکام کے مطابق، اس جہاز پر مشتبہ سامان موجود تھا اور اس نے امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی۔ جب جہاز نے رکنے کے حکم کی تعمیل نہیں کی تو امریکی فورسز نے فائرنگ کر کے اسے ناکارہ بنایا اور پھر اس پر قبضہ کر لیا۔ صدر ٹرمپ نے اس آپریشن کی تعریف کرتے ہوئے اسے اپنی "پریشر پالیسی" کی کامیابی قرار دیا۔ تاہم، ایران کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور "سمندری دہشت گردی" ہے۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کا جہاز فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو وہ آبنائے ہرمز میں سخت جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

پاکستان کا کردار اور اسلام آباد مذاکرات

پاکستان اس وقت اس بحران کو ٹالنے کے لیے ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور منعقد ہونا تھا، جس کے لیے امریکی وفد پہلے ہی پہنچ چکا ہے۔ پاکستانی حکام مسلسل تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے میں ہیں تاکہ مذاکرات کی میز کو سجا کر رکھا جا سکے۔ تاہم، حالیہ بحری واقعے نے مذاکراتی عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "ایک طرف امریکہ مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف ہمارے جہازوں پر قبضے کر رہا ہے، یہ منافقت امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے۔" پاکستان کی وزارت خارجہ نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

ممکنہ جنگی اثرات اور عالمی تشویش

اگر بدھ کی شام تک جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوتی تو ماہرین کے مطابق امریکہ ایران کے اہم مقامات پر فضائی حملے کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ ان کے نشانے پر ایران کے توانائی کے مراکز اور نقل و حمل کے ذرائع ہیں۔ اس کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ 

یورپی ممالک اور اقوام متحدہ نے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی اور یورپی حکام نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ سفارت کاری کو ایک اور موقع دیں، لیکن واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے "پہلے امریکہ" (America First) کے ایجنڈے پر قائم ہیں اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈال کر اپنی شرائط منوانا چاہتے ہیں۔

خلاصہ اور مستقبل کی صورتحال

آئندہ 24 گھنٹے مشرق وسطیٰ اور عالمی امن کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ایک طرف اسلام آباد میں سفارتی کوششیں عروج پر ہیں، تو دوسری طرف بحیرہ عمان میں بارود کی بو محسوس کی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کا دوٹوک موقف اور ایران کی جوابی دھمکیوں نے دنیا کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.