سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے درمیان اہم اجلاس: کراچی کے لیے اربوں ڈالرز کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری
اجلاس میں صوبائی وزراء ڈاکٹر عذرا پیچوہو، ناصر شاہ، سعید غنی، جام خان شورو، سید سردار شاہ، محمد بخش مہر، محمد علی ملکانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار اور دیگر ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور سندھ حکومت کی کارکردگی کو سراہا۔
کراچی میں صفائی کا نیا نظام اور لینڈ فل پروجیکٹ
وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں 'سولڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشینسی پروجیکٹ' کے تحت جدید لینڈ فل سائٹ تعمیر کی جا رہی ہے۔ جام چاکرو لینڈ فل سائٹ کے پہلے حصے کا کام مکمل ہو چکا ہے اور پرانی ڈمپ سائٹس کو سائنسی طریقے سے بند کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ بینک نے کراچی کے لینڈ فل پروجیکٹ کو ایک بڑا سنگ میل قرار دیا ہے۔ شرجیل میمن نے اعلان کیا کہ جون 2026 سے کچرا اٹھانے کی فیس (یوزر فیس) جمع کرنے کا باقاعدہ نظام شروع کیا جائے گا۔
ٹرانسپورٹ: ییلو لائن اور نئے پلوں کی تعمیر
سینئر وزیر شرجیل میمن نے بتایا کہ کراچی کی ٹرانسپورٹ کو جدید بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ورلڈ بینک کی اضافی فنڈنگ کے بعد یلو لائن بی آر ٹی منصوبہ اب مکمل طور پر فنڈڈ ہے، جس کی تکمیل 2028 تک متوقع ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ:
- پرانے جام صادق پل کے متبادل تاج حیدر پل کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
- پرانا جام صادق پل اپریل 2026 تک مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
- شہر میں دو بڑے بس ڈپو تیزی سے تعمیر ہو رہے ہیں۔
- پانی، صحت اور تعلیم میں اصلاحات
اجلاس میں پانی کی فراہمی کے منصوبے KWSSIP پر بھی بات ہوئی، جس کے تحت دھابیجی رائزنگ مین کا کام اپریل 2026 تک مکمل ہو جائے گا۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کہ ملیر میں جدید ہیلتھ سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے اور اپریل تک تمام میڈیکل ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر دیے جائیں گے۔
تعلیم کے شعبے میں وزیر تعلیم سردار شاہ نے بتایا کہ سندھ کے 600 اسکولوں میں طلبہ کی حاضری کا جدید مانیٹرنگ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے اور اس ماہ کے آخر تک اسے پورے صوبے میں پھیلا دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ہفتے 45 نئی اسکول عمارتیں حکومت کے حوالے کر دی جائیں گی۔
آخر میں سینئر وزیر شرجیل میمن نے ورلڈ بینک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تعاون سے "جدید کراچی" کا خواب اب حقیقت بن رہا ہے۔

Post a Comment