عالمی سطح پر حکومت سندھ کے پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ ماڈل کی دھوم، اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری

CM Murad Ali Shah chairs PPP board meeting for mega Sindh projects.

سندھ میں ترقی کا نیا دور: وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت پی پی پی بورڈ کے 52 ویں اجلاس میں بڑے فیصلوں کی منظوری

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت سندھ کے ترقیاتی ماڈل کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے، جو صوبائی حکومت کی شفافیت اور بہترین کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 

یہ بات انہوں نے جمعہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقدہ پی پی پی پالیسی بورڈ کے 52 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹ، تعلیم، انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی کے متعدد اربوں روپے کے منصوبوں کی حتمی منظوری دی گئی۔

عالمی سطح پر سندھ کے منصوبوں کی دھوم

اجلاس کے آغاز میں وزیراعلیٰ سندھ نے شرکاء کو خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ بارسلونا میں منعقدہ عالمی یونیسیف فورم میں حکومت سندھ کے چار اہم پی پی پی منصوبوں کو عالمی سطح پر "کیس اسٹڈیز" کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے 21 ممالک سے 139 منصوبے مقابلے کے لیے پیش کیے گئے تھے، جن میں سے سندھ کے تمام چاروں منصوبے کامیاب قرار پائے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں میں شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے، ٹیچرز ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز (EMOs) اور جنگلات کے ذریعے کاربن اخراج میں کمی کا منصوبہ شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 60 سے زائد ممالک کے 600 سے زائد مندوبین نے سندھ کے ٹیچر ٹریننگ منصوبے کو دنیا کے مؤثر ترین تعلیمی ماڈلز میں سے ایک تسلیم کیا ہے۔ یہ عالمی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ کے منصوبے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے عین مطابق ہیں۔

این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک: جدید صنعتی ترقی کی جانب قدم

اجلاس میں کراچی کے اہم ترین منصوبے این ای ڈی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ یہ منصوبہ کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے رعایتی معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور ابتدائی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تاہم، وفاقی حکام کی جانب سے "اسپیشل ٹیکنالوجی زون" (STZ) کی منظوری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے پی پی پی بورڈ نے متبادل مالیاتی ماڈلز اور ڈھانچے پر غور کیا۔ بورڈ نے فیصلہ کیا کہ وفاقی حکومت سے منظوری کے لیے رابطے جاری رکھے جائیں گے، لیکن منصوبے کی اہمیت کے پیش نظر کام کو روکا نہیں جائے گا۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ غیر فروخت شدہ کمرشل اسپیس صرف مخصوص شرائط پر خریدنے پر غور کر سکتی ہے۔

تعلیمی نظام میں انقلاب: سندھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (SITE)

تعلیم کے شعبے میں اساتذہ کی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سندھ انسٹیٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (SITE) کے تصوراتی خاکے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس ادارے کو ایک خود مختار ڈگری جاری کرنے والے ادارے کی حیثیت دی گئی ہے۔

اس منصوبے کے تحت صوبے بھر کے 30 ٹیچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹس میں بی ایڈ (B.Ed) پروگرامز کو مضبوط بنایا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی دور کرنا ہماری ترجیح ہے تاکہ سرکاری اسکولوں کے طلباء کو بہترین معیارِ تعلیم میسر آ سکے۔ بورڈ نے اسٹیٹوا (STEVTA) کے ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کو منصوبے کی مکمل جانچ پڑتال (Due Diligence) کی اجازت بھی دے دی۔

ٹرانسپورٹ اور روڈ سیفٹی: جدید وہیکل فٹنس سینٹرز کا قیام

صوبے میں سڑکوں کی حفاظت اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے پی پی پی ماڈل کے تحت جدید وہیکل فٹنس انسپیکشن سینٹرز قائم کرنے کا بڑا فیصلہ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ نظام میں نگرانی کی کمی ہے جس کی وجہ سے خراب گاڑیاں حادثات اور آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔

نئے نظام کی خصوصیات درج ذیل ہوں گی:

  1. تمام معائنہ مراکز ڈیجیٹل سسٹم سے لیس ہوں گے۔
  2. شہریوں کے لیے آن لائن اپائنٹمنٹ کی سہولت دستیاب ہوگی۔
  3. گاڑیوں کے ڈیٹا کو حکومتی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا۔
  4. ایک موبائل وہیکل انسپیکشن یونٹ بھی اس منصوبے کا حصہ ہوگا جو کسی بھی جگہ گاڑیوں کا معائنہ کر سکے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سڑکوں کو محفوظ بنائے گا بلکہ کمرشل گاڑیوں کی کارکردگی میں بھی بہتری لائے گا۔ بورڈ نے سرمایہ کاروں کے انتخاب کے لیے مسابقتی بولی (Bidding) شروع کرنے کی منظوری دیدی۔

شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے: کراچی کی ٹریفک کا حل

کراچی کی بندرگاہ سے تجارتی سامان کی نقل و حمل کو آسان بنانے کے لیے شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے (کراچی پورٹ تا قیوم آباد کوریڈور) پر اہم فیصلے کیے گئے۔ یہ ساڑھے 16 کلومیٹر طویل منصوبہ ہے جس میں 10.4 کلومیٹر کا حصہ ایلیویٹڈ (پلوں پر مشتمل) ہوگا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کے لیے بین الاقوامی سطح پر شفاف بولی کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور سب سے کم بولی دینے والے کامیاب کنسورشیم کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔ یہ عمل سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے الیکٹرانک پورٹل (EPADS) کے ذریعے مکمل کیا گیا۔ بورڈ نے کامیاب بولی دہندگان کی منظوری دیتے ہوئے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔

منصوبوں کی بروقت تکمیل کی ہدایت

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ منظور شدہ منصوبوں پر مقررہ وقت کے اندر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نجی شعبے کے تعاون سے صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے لیے پرعزم ہے۔

اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر حسین شاہ، جام خان شورو، اسماعیل راہو، ضیاء الحسن لنجار، معاون خصوصی قاسم نوید، ارکانِ اسمبلی غلام قادر چانڈیو، قاسم سومرو اور چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.