ڈینیئل پرل کیس: جب پولیس نے ای میل 'سرور' کی تلاش میں 400 'سرور' نامی افراد کو دھر لیا
پاکستان کی صحافتی اور پولیس کی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو اپنی سنگینی کے باوجود اپنے پیچھے کچھ ایسی کہانیاں چھوڑ جاتے ہیں جو برسوں بعد بھی سننے والوں کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ 2002 میں پیش آیا جب امریکی صحافی ڈینیئل پرل کو کراچی سے اغوا کیا گیا۔ اس کیس نے نہ صرف عالمی سطح پر ہلچل مچا دی بلکہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں پر بھی شدید دباؤ ڈال دیا۔ حال ہی میں معروف صحافی ارمان صابر نے اپنے وی لاگ میں سینئر کرائم رپورٹر اور تجزیہ کار ایچ خانزادہ کے ساتھ مل کر اس کیس کے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی جو اب تک عام عوام کی نظروں سے اوجھل تھے۔
ڈینیئل پرل کے اغوا کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلی۔ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر داخلہ معین الدین حیدر پر بین الاقوامی دباؤ اس قدر زیادہ تھا کہ پولیس کو کسی بھی قیمت پر اغوا کاروں تک پہنچنے کا حکم دیا گیا۔ ایچ خانزادہ بتاتے ہیں کہ ڈینیئل پرل کراچی آنے کے بعد ایک ہوٹل میں بکنگ کرواتے ہیں لیکن وہاں ٹھہرنے کے بجائے ڈیفنس کے ایک نجی بنگلے میں اپنی ایک سہولت کار خاتون کے ساتھ قیام کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی تفصیل ہے جو اس کیس کی پراسراریت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
جب تفتیش شروع ہوئی تو پولیس کے اعلیٰ حکام کے اجلاسوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا۔ ان اجلاسوں میں پولیس افسران بڑی بڑی پریزنٹیشنز پیش کرتے تھے جن میں یہ دکھایا جاتا تھا کہ اغوا کار کہاں سے آئے اور کہاں گئے۔ اسی دوران اغوا کاروں کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں کچھ مطالبات کیے گئے تھے۔ پولیس نے اس ای میل کا سراغ لگانے کے لیے ماہرین سے مدد لی۔ ایک اہم اجلاس کے اختتام پر یہ نتیجہ نکالا گیا کہ "اگر اس ای میل کے 'سرور' (Server) کا پتہ چل جائے تو ڈینیئل پرل تک رسائی ممکن ہے"۔
بس پھر کیا تھا، پولیس کی 'پھرتیوں' کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی ایک مزاحیہ قصہ بن کر یاد کیا جاتا ہے۔ پولیس کے ایک جوشیلے افسر نے لفظ 'سرور' کا مطلب ٹیکنالوجی والا کمپیوٹر سرور سمجھنے کے بجائے اسے انسانی نام 'سرور' سمجھ لیا۔ اس غلط فہمی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی بھر سے تقریباً 400 ایسے افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن کے نام میں 'سرور' آتا تھا، چاہے وہ محمد سرور ہوں، غلام سرور ہوں یا سرور حسین۔ ایچ خانزادہ بتاتے ہیں کہ ان کے ایک دوست کے ضعیف استاد، جن کا نام محمد سرور تھا، انہیں بھی پولیس اٹھا کر لے گئی۔ جب انہوں نے اس وقت کے آئی جی سندھ کمال شاہ کو فون کیا تو آئی جی صاحب خود ہنس پڑے اور بتایا کہ کس طرح ایک افسر کی غلط فہمی نے پورے شہر کے 'سرور' کو مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ بعد ازاں آئی جی کی مداخلت پر ان تمام بے گناہ افراد کو رہا کیا گیا۔
اس کیس کے دوران کچھ اور عجیب و غریب واقعات بھی پیش آئے۔ کراچی میں ایک لاوارث لاش ملی جو بظاہر کسی غیر ملکی کی لگتی تھی۔ پولیس اور ایدھی سینٹر والے اسے سول ہسپتال کے مردہ خانے لے گئے۔ لیکن یہ بتایا گیا کہ یہ تو غیر ملکی لگتا ہے۔ بس پھر کیا تھا، ڈینئیل پرل سمجھ کر لاش فوری طور پر مڈایسٹ ہسپتال لائی گئی۔جہاں ڈینیئل پرل کی اہلیہ کو شناخت کے لیے بلایا گیا، لیکن انہوں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔اور لاش کو پھر سول ہسپتال کے مردہ خانے لے جایا گیا۔ اسی طرح لاہور سے ایک اور دلچسپ خبر آئی جہاں ایک رپورٹر نے اطلاع دی کہ ایک "گورا" مردہ حالت میں پایا گیا ہے۔ اس خبر نے پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ لاہور کے مخصوص لہجے کی وجہ سے رپورٹر دراصل "گھوڑا" کہہ رہا تھا جسے نیوز ڈیسک نے "گورا" سمجھ لیا تھا۔
ایچ خانزادہ اور ارمان صابر کی یہ گفتگو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اس وقت کے حالات کتنے کشیدہ تھے اور پولیس کس قدر دباؤ میں کام کر رہی تھی۔ یہ محض ایک کیس نہیں تھا بلکہ پاکستان کی ساکھ کا سوال تھا۔ اگرچہ ڈینیئل پرل کیس کا انجام انتہائی افسوسناک رہا، لیکن اس کے پس پردہ ہونے والی یہ "سرور مہم" پولیس کی تفتیشی صلاحیتوں اور اس وقت کی تکنیکی سمجھ بوجھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی۔
ایسے واقعات تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں اور برسوں بعد جب ان سے پردہ اٹھتا ہے تو ہمیں اس وقت کے نظام کی خامیاں اور انسانی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے۔ ارمان صابر وی لاگز کے ذریعے پرانے کیسز کی ایسی فائلیں کھولنا دراصل نئی نسل کو اس دور کی صحافت اور پولیسنگ سے روشناس کرانے کی ایک بہترین کوشش ہے۔
Post a Comment