آبنائے ہرمز میں نئی جھڑپیں: امریکہ اور ایران کا ایک دوسرے پر حملوں کا دعویٰ
خلیجِ فارس میں واقع 'آبنائے ہرمز' (Strait of Hormuz) میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب امریکہ اور ایران کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں علاقے میں جاری جنگ بندی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین امریکی بحری جہازوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، جس کے جواب میں امریکی فضائیہ نے ایران کے اندر مختلف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
جھڑپوں کی تفصیلات اور امریکی موقف
امریکی حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی بحری بیڑے کے تین تباہ کن جہاز (Destroyers) 'یو ایس ایس ٹرکسٹن'، 'یو ایس ایس رافیل پرالٹا' اور 'یو ایس ایس میسن' بین الاقوامی پانیوں سے گزر رہے تھے۔ سینٹ کام کے اعلامیے کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ان جہازوں پر بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، ڈرونز اور تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے حملہ کیا۔ تاہم امریکی دفاعی نظام نے ان تمام حملوں کو ناکام بنا دیا اور کسی بھی امریکی جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
اس حملے کے فوری جواب میں امریکی افواج نے "سیلف ڈیفنس" (اپنے دفاع) کے تحت ایران کے ساحلی علاقوں میں کارروائی کی۔ امریکی حکام کے مطابق جزیرہ قشم، بندر عباس اور میناب کے علاقوں میں ان مقامات کو تباہ کر دیا گیا جہاں سے میزائل اور ڈرون فائر کیے گئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ایرانی حملوں کو سختی سے کچل دیا گیا ہے اور امریکی افواج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے ان جھڑپوں کو ایک "لو ٹیپ" (معمولی دستک) قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے لیکن اگر ایران نے جلد کسی معاہدے پر دستخط نہ کیے تو اسے مزید سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایران کا ردِعمل اور الزامات
ایران نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی میڈیا اور عسکری ذرائع کے مطابق امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی تیل بردار بحری جہاز اور ایک مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے امریکی جنگی جہازوں پر جوابی کارروائی کی۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی کارروائی سے جاشک کے ساحلی علاقوں اور شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تہران نے اسے کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سمندری حدود اور وسائل کے تحفظ کا حق رکھتا ہے۔
علاقائی صورتحال اوراس کے ممکنہ اثرات
تازہ جھڑپوں کے باعث خطے میں تناؤ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی جمعہ کی صبح اپنے فضائی دفاعی نظام (Air Defence) کو متحرک کرنے کی اطلاع دی ہے تاکہ ایران کی جانب سے آنے والے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ مقامی حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور جہاز رانی (Shipping) پر بھی منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں جلد پیش رفت نہ ہوئی تو یہ جھڑپیں ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہیں، جس سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔
امریکی صدر نے واضح کیا ہے کہ وہ اب بھی ایران کے ساتھ ایک حتمی معاہدے کے خواہش مند ہیں جس کے تحت آبنائے ہرمز کو تمام عالمی ٹریفک کے لیے کھولا جا سکے۔ تاہم ایران کا اصرار ہے کہ امریکہ پہلے معاشی پابندیاں ختم کرے اور اس کی خود مختاری کا احترام کرے۔ عالمی برادری، بشمول پاکستان اور خلیجی ممالک، دونوں فریقین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔

Post a Comment