وزیراعظم کا درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور بجلی چوروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں بجلی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا اعلان کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ بجلی چوری میں ملوث کسی بھی شخص کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ وہ درآمدی ایندھن (باہر سے منگوائے جانے والے تیل اور گیس) پر انحصار کم کریں اور مستقبل میں توانائی کی ضروریات کو مقامی اور قابل تجدید ذرائع سے پورا کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کریں۔
توانائی شعبے میں اصلاحات اور اجلاس کی تفصیلات
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں وفاقی وزراء بشمول اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، سردار اویس لغاری اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کو پن بجلی، شمسی توانائی اور بائیو گیس جیسے ذرائع کی طرف تیزی سے منتقل ہونے کی ضرورت ہے تاکہ بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے اور ملکی معیشت کو سہارا مل سکے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاور سیکٹر (شعبہ توانائی) سے متعلقہ اصلاحاتی اقدامات پر اجلاس
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 5, 2026
اجلاس میں بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے کام جاری ہے اور اس سال نومبر میں بولی کا مرحلہ مکمل ہو جائے… pic.twitter.com/z5spMDBKUR
بجلی چوری اور سمارٹ میٹرز کی تنصیب
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ ہے، وہاں ٹرانسفارمرز پر فوری طور پر 'سمارٹ میٹرز' نصب کیے جائیں۔ انہوں نے ان بجلی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا جنہوں نے 'اکنامک میرٹ آرڈر' کی خلاف ورزی کی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کی مسابقتی مارکیٹ کو فروغ دیا جائے اور نجی شعبے کو 'ویلنگ سسٹم' کے تحت پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔
کارکردگی رپورٹ اور مستقبل کے اہداف
حکام نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق:
- بجلی کے ترسیلی نظام کے نقصانات جون 2024 میں 18.3% تھے جو مارچ 2026 میں کم ہو کر 15.3% رہ گئے ہیں۔
- بجلی کے بلوں کی وصولی کی شرح 90% سے بڑھ کر 96.46% تک پہنچ چکی ہے۔
- نقصان میں چلنے والے 2500 فیڈرز پر سمارٹ میٹرز لگائے جا چکے ہیں اور تین تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے نومبر 2026 تک بولی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
آخر میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحات کے اس عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ عام آدمی کو سستی بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

Post a Comment