سندھ کابینہ کا تفصیلی اجلاس: ماہی گیروں کے لیے سبسڈی، کراچی میں میگا قبرستان
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ کابینہ کا ایک اہم اور طویل اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں صوبے کی عوام کے لیے کئی اہم سماجی، معاشی اور ماحولیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں ماہی گیروں کے لیے فیول سبسڈی، کراچی میں تدفین کے مسائل کے حل کے لیے بڑی اراضی کی تخصیص اور انسانی حقوق کے قوانین میں اہم ترامیم جیسے فیصلے شامل رہے۔
ماہی گیروں کے لیے 515 ملین روپے کا تاریخی ریلیف پیکیج
سندھ کابینہ نے صوبے کی ماہی گیر برادری کے لیے ایک بہت بڑے مالیاتی پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے 515 ملین روپے کے فیول سبسڈی پیکیج کی توثیق کی، جس کا مقصد کراچی، ٹھٹہ، سجاول اور بدین کے ان ہزاروں خاندانوں کی مدد کرنا ہے جن کا روزگار سمندر سے وابستہ ہے۔
کابینہ کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حالیہ عرصے میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مچھلی کے شکار کی سرگرمیوں میں 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے 9,634 رجسٹرڈ کشتیوں کو براہِ راست مالی امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
20 ہارس پاور کے انجن والی 2,331 کشتیوں کو 2 لاکھ روپے فی کشتی، جبکہ 10 ہارس پاور والی 488 کشتیوں کو ایک لاکھ روپے فی کشتی سبسڈی دی جائے گی۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے ماہی گیروں کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائیں گی۔
کراچی میں 500 ایکڑ پر مشتمل ’میگا قبرستان‘ کی منظوری
صوبائی دارالحکومت کراچی میں تدفین کے لیے جگہ کی شدید قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ کابینہ نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ ضلع ملیر کے دیہہ میٹھا گھر میں 500 ایکڑ اراضی میگا قبرستان کے لیے مختص کر دی گئی ہے۔
اس زمین کی فی ایکڑ قیمت 13.5 ملین روپے مقرر کی گئی ہے، جس کے مطابق کل 6,750 ملین روپے کی زمین محکمہ بلدیات کے حوالے کی جائے گی۔ اس اقدام سے کراچی کے شہریوں کو تدفین کے حوالے سے درپیش مشکلات میں بڑی کمی آنے کی توقع ہے۔
پیپلز موٹر سائیکل فیول سبسڈی اور ٹیکس میں کمی
عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ نے ’پیپلز موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام‘ میں 31 مئی 2026 تک توسیع کی منظوری دے دی۔ مئی کے مہینے کے لیے 2 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اب تک اس پروگرام کے تحت 5 لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد کو فی کس دو ہزار روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔
اسی طرح، آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز (موٹر سائیکل کیب) سے وابستہ ڈرائیورز اور صارفین کے لیے بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کابینہ نے سیلز ٹیکس کو 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے سالانہ 120 ملین روپے کا بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ آن لائن سسٹم میں بہتری آئے اور صارفین کو رائیڈ کینسلیشن جیسے مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صدرِ مملکت کا دورہ چین اور ’چائنا ڈیسک‘ کا قیام
اجلاس میں صدر مملکت آصف علی زرداری کے حالیہ دورہ چین کے بارے میں بھی اہم بریفنگ دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس دورے کے نتیجے میں سندھ کے لیے بڑے معاہدے طے پائے ہیں، جن میں کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا ’ڈی سیلینیشن پلانٹ‘ اور مویشیوں کے لیے ویکسین بنانے کی فیکٹری کا قیام شامل ہے۔ ان منصوبوں کی مانیٹرنگ اور چینی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے محکمہ سرمایہ کاری میں ایک خصوصی ’چائنا ڈیسک‘ قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
ماحولیاتی تحفظ اور ’پاک-فلو‘ منصوبہ
سندھ کابینہ نے ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے ’پاک-فلو‘ منصوبے کے مالیاتی فریم ورک کی بھی توثیق کی۔ یہ منصوبہ جام چاکرو لینڈ فل سائٹ پر میتھین گیس کے اخراج کو کم کرنے کے لیے شروع کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے ذریعے کاربن کریڈٹس فروخت کر کے 40 ملین ڈالر تک کی فنڈنگ حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کاربن کریڈٹس کی قیمت 40 ڈالر فی ٹن تک حاصل کی جائے تاکہ صوبے کی آمدن میں اضافہ ہو سکے۔
انسانی حقوق اور انتظامی فیصلے
کابینہ نے سندھ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دی، جسے اب قانون سازی کے لیے سندھ اسمبلی بھیجا جائے گا۔ اس ترمیم کے بعد انسانی حقوق کمیشن کے دائرہ کار میں کاروباری اداروں کی جانب سے کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمیشن کے چیئرپرسن اور اراکین کی مدت بھی 4 سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں، شہید بینظیر آباد ڈویژن میں انسدادِ تجاوزات ٹریبونل قائم کرنے اور سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (SEPRA) میں فیصل ملک کو ممبر فنانس اینڈ پالیسی مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

Post a Comment