وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی کے میگا پراجیکٹس کا طوفانی دورہ: ریڈ لائن بی آر ٹی پر کام تیز کرنے کا حکم
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کو کراچی کے مختلف علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور شہر کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں بشمول کراچی بس ریپڈ ٹرانزٹ (کے بی ٹی آر) ریڈ لائن کوریڈور، شاہراہِ بھٹو، پہلوان گوٹھ روڈ اور عظیم پورہ فلائی اوور پر جاری کام کا معائنہ کیا۔
دوسری جانب سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے منصوبوں کی صورتحال پر اہم بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر توہینِ عدالت کے کیسز کا بھی سامنا کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا دورہ اور اہم ہدایات
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کی صبح کراچی کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے کے لیے فیلڈ کا رخ کیا۔ ان کے ہمراہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی موجود تھے۔
1۔ ریڈ لائن منصوبہ اور ٹریفک کی بحالی:
وزیراعلیٰ نے پیپلز چورنگی سے صفورا چورنگی تک ریڈ لائن منصوبے کے کوریڈور کا معائنہ کیا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ ریڈ لائن کے ساتھ ساتھ تمام مکسڈ ٹریفک لینز کو اگلے دو ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے نیپا کے مقام پر بار بار پانی جمع ہونے اور سیوریج کے مسائل پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کا حکم دیا۔ مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ "وسائل موجود ہیں، اب مجھے زمین پر نتائج نظر آنے چاہئیں، کام متعدد شفٹوں میں جاری رکھا جائے۔"
2۔ شاہراہِ بھٹو: عید کا تحفہ:
وزیراعلیٰ نے عظیم پورہ فلائی اوور سے کاٹھوڑ موڑتک شاہراہِ بھٹو (لنک روڈ) کا معائنہ کیا۔ 38 کلومیٹر طویل اس کوریڈور کا 93 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ شاہراہِ بھٹو کو عید سے قبل ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا، جو کراچی کے عوام کے لیے عید کا تحفہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک سے بھاری ٹریفک شہر سے باہر منتقل ہو جائے گی جس سے شہر کے اندرونی حصوں میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا۔
3۔ دیگر منصوبوں کی ڈیڈ لائن:
وزیراعلیٰ نے شاہ فیصل کالونی میں زیر تعمیر عظیم پورہ فلائی اوور کو 90 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ پہلوان گوٹھ روڈ پر 1.59 ارب روپے کی لاگت سے جاری کام اور منور چورنگی انڈر پاس کا بھی معائنہ کیا تاکہ گلستانِ جوہر اور ملحقہ علاقوں کے مکینوں کو ریلیف مل سکے۔
صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا اہم بیان
ادھر سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ریڈ لائن بی آر ٹی کے حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ شہر کا اہم مرکز ہے جہاں زمین دوز یوٹیلیٹی لائنیں (کے الیکٹرک، سوئی گیس) ایک بڑا چیلنج بنی رہی ہیں، جس کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔
کنٹریکٹ کی تبدیلی اور ایف ڈبلیو او:
شرجیل میمن نے بتایا کہ حکومت نے سابقہ کنٹریکٹر کے ساتھ معاہدہ ختم کر کے کام ایف ڈبلیو او (FWO) کو سونپ دیا ہے تاکہ کام کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جولائی کے آخر تک یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی کو کافی حد تک بحال کر دیا جائے۔
سیاسی تنقید اور عدالتی معاملات:
شرجیل میمن نے شاہد خاقان عباسی اور دیگر سیاسی مخالفین کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں تمام منصوبوں پر بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں، عدالت کا فیصلہ سر آنکھوں پر لیکن عدالتی آرڈر کی وجہ سے ترقیاتی کام نہیں رکے گا، ہم عوامی مفاد کے لیے توہینِ عدالت کا سامنا کرنے کو بھی تیار ہیں۔"
حکومتِ سندھ کے ان اقدامات سے بظاہر کراچی میں ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کی بہتری اب حتمی مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔ شاہراہِ بھٹو کی بقرعید پر افتتاحی تقریب اور ریڈ لائن کے متبادل راستوں کی بحالی سے کراچی کے لاکھوں شہریوں کو روزمرہ کے سفر میں بڑی سہولت میسر آنے کا امکان ہے۔

Post a Comment