مظفر گڑھ کا لسی کیس: ایک جبری شادی، ناکام محبت اور 16 جنازوں کی لرزہ خیز داستان
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں پیش آنے والا "لسی کیس" محض ایک جرم کی کہانی نہیں بلکہ یہ ہمارے دیہی معاشرے کے اس بوسیدہ ڈھانچے کا نوحہ ہے جہاں بیٹیوں کی پسند و ناپسند کو خاندان کی جھوٹی انا اور غیرت کے بتوں تلے کچل دیا جاتا ہے۔
اس خصوصی رپورٹ میں ہم اس لرزہ خیز واقعے کے ان پہلوؤں کا جائزہ لیں گے جو برسوں بعد ایک بار پھر اس وقت سرخیوں میں آئے جب اس کیس کے مرکزی ملزمان کی رہائی کی خبر سامنے آئی۔
مقتول امجد کے بھائی غلام سرور نے براہِ راست فون پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مبینہ ملزمان محض پندرہ بیس دن پہلے ہی جیل سے رہا ہو کر اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں۔ یہ خبر اس خاندان کے لیے کسی دوسرے سانحے سے کم نہیں جس نے اس واقعے میں اپنے 14 افراد سمیت کل 16 پیاروں کو کھو دیا تھا۔
سانحے کا آغاز: جبری نکاح اور سلگتی ہوئی آگ
اس کہانی کا آغاز اکتوبر 2017 میں مظفر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں "کنڈائی" سے ہوتا ہے۔ تپتی دوپہر میں ایک گھر کے کچن میں لسی تیار ہو رہی تھی، لیکن اس گھر کی بہو، 21 سالہ آسیہ بی بی کے ذہن میں انتقام کی ایک ہولناک آگ سلگ رہی تھی۔ آسیہ کی شادی اس کی مرضی کے خلاف اس کے پڑوسی امجد سے کر دی گئی تھی۔ وہ اس رشتے سے خوش نہیں تھی اور بارہا اپنے والدین کو منع کیا تھا، لیکن دیہی معاشرت میں لڑکی کی آواز کو اکثر دبا دیا جاتا ہے۔
شادی کے بعد جب آسیہ کو لگا کہ اس کی زندگی ایک قید بن چکی ہے، تو اس نے اپنے والدین سے منتیں کیں کہ اسے اس قید سے نجات دلائی جائے، مگر والدین نے "غیرت" اور "لوگ کیا کہیں گے" کے ڈر سے اسے واپس سسرال بھیج دیا۔ یہیں سے آسیہ نے وہ راستہ چنا جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی۔
سازش کا جال اور شاہد لاشاری کا کردار
آسیہ اپنی اس جنگ میں تنہا نہیں تھی، بلکہ اس کے ساتھ اس کا آشنا شاہد لاشاری بھی شامل تھا۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، نکاح کے بعد بھی آسیہ اور شاہد کا رابطہ قائم رہا۔ شاہد کی خالہ زرینہ نے بھی مبینہ طور پر ان کا ساتھ دیا۔ ان سب کا مقصد ایک ہی تھا کہ کسی طرح امجد کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔ شاہد نے ایک زہریلا سفوف حاصل کیا اور آسیہ کے حوالے کر دیا۔
اکتوبر کی ایک گرم رات آسیہ وہ زہریلا مواد دودھ کے گلاس میں ملا کر امجد کے لیے لائی، لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ امجد نے اس رات وہ دودھ نہیں پیا اور گلاس ویسے ہی رکھا رہ گیا۔ آسیہ کو اس وقت اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کی یہ ناکام کوشش پورے خاندان کے لیے موت کا پیغام بن جائے گی۔
موت کا پیالہ: جب لسی زہر بن گئی
اگلی صبح جب آسیہ کی ساس نے دیکھا کہ دودھ پھٹ چکا ہے، تو انہوں نے ضائع کرنے کے بجائے اس سے دہی جما لیا۔ 24 اکتوبر 2017 کی دوپہر جب کھانے کا وقت ہوا، تو اسی دہی سے لسی تیار کی گئی۔ اس بے خبر ماں کو کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے جگر گوشوں کو موت بانٹنے جا رہی ہے۔ دسترخوان پر خاندان کے 27 افراد موجود تھے۔ ٹھنڈی لسی کے گلاس بھرے گئے اور جیسے ہی لوگوں نے لسی پی، زہر نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا۔
چند ہی گھنٹوں میں گھر ماتم کدہ بن گیا۔ ملتان کے ہسپتالوں میں ایمبولینسوں کی قطاریں لگ گئیں۔ اس لسی نے نہ صرف امجد کی جان لی بلکہ 16 معصوم افراد کو موت کی نیند سلا دیا، جن میں ایک 7 سالہ بچی بھی شامل تھی جس کا اس انتقام سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
تحقیقات، گرفتاری اور اعترافی بیان
یہ خبر بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنی تو پولیس پر شدید دباؤ آگیا۔ شک کی پہلی سوئی آسیہ پر گھومی کیونکہ وہ گھر کی واحد فرد تھی جس نے لسی نہیں پی تھی۔ تفتیش کے دوران آسیہ کے دیور مجیب نے بھی اس پر شک کا اظہار کیا۔ ابتدائی طور پر آسیہ نے صحتِ جرم سے انکار کیا، لیکن جب فارنزک اور فنگر پرنٹ رپورٹس سامنے آئیں اور شاہد لاشاری نے زہر دینے کا اعتراف کیا، تو آسیہ نے بھی اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کرایا۔
کیس کے تفتیشی افسر عبدالرزاق کلاسرا کے مطابق، یہ کیس ان کے کیریئر کے پیچیدہ ترین کیسز میں سے ایک تھا۔ تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں جہاں چشم دید گواہ نہ ہوں اور ملزم عدالت میں پولیس کے سامنے دیے گئے بیان سے مکر جائے، وہاں ملزم کو "شک کا فائدہ" ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
انصاف کی تلاش اور قانونی پیچیدگیاں
آج آٹھ سال گزرنے کے بعد، مقتولین کے لواحقین سراپا احتجاج ہیں کہ اتنے بڑے قتلِ عام کے ملزمان رہا کیسے ہو گئے۔ ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق، عدالتیں شواہد (Evidence) پر فیصلہ کرتی ہیں اور اکثر ایسے کیسز میں "قتل کی نیت" (Intention) کو ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ ملزمہ کا نشانہ صرف ایک شخص تھا جبکہ اموات حادثاتی طور پر 16 ہو گئیں۔
معاشرتی تناظر میں جائیداد کے تنازعات اور خواتین پر لگائے جانے والے الزامات بھی عدالتوں کے سامنے رہتے ہیں۔ غلام سرور اور مجیب جیسے لواحقین، جنہوں نے لاکھوں روپے کیس پر خرچ کیے، آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور ملزمان کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ کیس ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں جبری شادیاں اسی طرح ہنستے بستے گھرانوں کو اجاڑتی رہیں گی؟
Post a Comment