امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، صدر ٹرمپ کا ہنگامی خفیہ اجلاس، مشی گن میں قیمتیں 5 ڈالر کے قریب
امریکہ کی مختلف ریاستوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافے نے پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مشی گن سمیت کئی اہم علاقوں میں پیٹرول کی قیمت راتوں رات 4.50 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے اعلیٰ ترین معاشی اور توانائی کے مشیروں کے ساتھ ایک اہم اور خفیہ مشاورتی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
مشی گن کی صورتحال اور عوامی پریشانی
رپورٹس کے مطابق ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹروئٹ اور قریبی علاقوں میں شہریوں کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب پیٹرول پمپوں پر قیمتوں کے بورڈز تبدیل پائے گئے۔ مشی گن میں پیٹرول کی اوسط قیمت جو پہلے مستحکم تھی، اب 4.89 ڈالر سے لے کر 5 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔
مقامی صارفین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ اس قدر اچانک ہوا کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ ایک عام شہری کو اب اپنی گاڑی کا ٹینک فل کروانے کے لیے 100 ڈالر سے زائد رقم ادا کرنی پڑ رہی ہے، جس نے متوسط طبقے کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی وجوہات
توانائی کے ماہرین اور 'گیس بڈی' (GasBuddy) کے تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق، قیمتوں میں اس اضافے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے اہم وجہ مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ، مقامی سطح پر انڈیانا میں واقع بی پی (BP) کی بڑی ریفائنری میں تکنیکی خرابی اور دیکھ بھال کے کام کی وجہ سے سپلائی میں خلل پڑا ہے، جس کا براہ راست اثر مشی گن اور گردونواح کی ریاستوں پر پڑ رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا ہنگامی اجلاس اور سیاسی دباؤ
تیزی سے بدلتی ہوئی اس صورتحال نے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو متحرک کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے خفیہ اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹریژری سیکرٹری اسکاٹ بیسنٹ اور چیف آف اسٹاف سوزی وائلز سمیت توانائی کے بڑے حکام نے شرکت کی۔
اس اجلاس کا مقصد ان وجوہات کا تعین کرنا تھا جن کی وجہ سے قیمتیں قابو سے باہر ہو رہی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو ریپبلکن پارٹی کو آنے والے وسط مدتی انتخابات میں شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ اور معاشی اثرات
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے صرف نقل و حمل ہی نہیں بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ کی ٹیم اس وقت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے، جن میں تزویراتی تیل کے ذخائر (Strategic Petroleum Reserve) کا استعمال اور بین الاقوامی سطح پر تیل پیدا کرنے والے ممالک سے بات چیت شامل ہے۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک بین الاقوامی سیاسی تنازعات اور ریفائنری کے مسائل حل نہیں ہوتے، تب تک قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان کم ہے۔
حکومت کی جانب سے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پیٹرول کے استعمال میں احتیاط برتیں اور مختلف ایپس کے ذریعے قیمتوں کا موازنہ کر کے سستے پمپوں سے فائدہ اٹھائیں۔ آنے والے چند روز امریکی معیشت اور ٹرمپ انتظامیہ کی حکمت عملی کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

Post a Comment