مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پاکستان کو 68 ارب ڈالر تک کے نقصان کا خدشہ، مہنگائی میں اضافے کا انتباہ

مشرق وسطیٰ جنگ سے پاکستان کو 68 ارب ڈالر نقصان اور 17 فیصد مہنگائی کا خدشہ ہے۔ Middle East war could cost Pakistan $68bn, raising inflation to 17 percent.

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو سالانہ 68 ارب ڈالر تک کا بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جبکہ ملک میں مہنگائی کی شرح 17 فیصد تک پہنچنے کا خطرہ ہے۔ 

یہ تشویشناک انکشاف پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) کے سربراہ علی سلمان نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کیا۔ 

سید نوید قمر کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ ممکنہ معاشی نقصان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام سے بھی کہیں زیادہ بڑا ہے۔

ماہرِ معاشیات علی سلمان نے کمیٹی کو بتایا کہ جنگ کے اثرات کے حوالے سے تین مختلف صورتحال ہو سکتی ہیں۔ موجودہ حالات کے مطابق پاکستان کو پہلے ہی ماہانہ بنیادوں پر تیل کی درآمد میں 334 ملین ڈالر کا اضافہ، ترسیلاتِ زر میں 333 ملین ڈالر کی کمی اور برآمدات میں 400 ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔ 

اس صورت میں سالانہ نقصان 10 سے 14 ارب ڈالر تک رہ سکتا ہے۔ تاہم، اگر یہ جنگ شدت اختیار کرتی ہے اور تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے، تو سالانہ نقصان 68 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے، جو پاکستانی معیشت کے لیے انتہائی تباہ کن ہوگا۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ فروری سے شروع ہونے والے اس تنازع کی وجہ سے بحری تجارت بھی متاثر ہوئی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور امریکہ کی سمندری ناکہ بندی سے تیل کی ترسیل پر برے اثرات پڑے ہیں۔ 

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے حوالے سے بتایا گیا کہ تیل کا ہفتہ وار درآمدی بل 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 800 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے علاوہ، فریٹ چارجز (بحری کرایوں) میں اضافے سے بھی درآمدی اشیاء مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارتِ خزانہ نے قرضوں کے حوالے سے بھی رپورٹ پیش کی۔ حکام نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک کے مجموعی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 70.7 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو کہ قانونی طور پر مقررہ حد (56 فیصد) سے بہت زیادہ ہے۔ 

کمیٹی کے ارکان، جن میں حنا ربانی کھر اور شرمیلا فاروقی شامل تھیں، نے قرضوں کے انتظام اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں اور مہنگائی کے شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.