امریکہ ایران جنگ کے اخراجات میں ہوشربا اضافہ، پینٹاگون کے تخمینے غلط ثابت، ریپبلکن سینیٹرز کی نئی فوجی کارروائی کے لیے سرگرمیاں
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی تنازع کے اخراجات کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری "آپریشن ایپک فیوری" (Operation Epic Fury) کے اخراجات پینٹاگون کے بتائے گئے 25 ارب ڈالر کے تخمینے سے دوگنا یعنی 50 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سینیٹ کی سماعت کے دوران اخراجات کے اعداد و شمار پر دباؤ کا شکار نظر آئے۔ دوسری جانب ریپبلکن سینیٹرز ایران کے خلاف طاقت کے بھرپور استعمال کی نئی قرارداد منظور کرانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔
جنگ کے حقیقی اخراجات اور پینٹاگون کا موقف
تفصیلات کے مطابق، پینٹاگون کے عہدیدار جولز ہرسٹ نے بدھ کو کانگریس میں گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ پر اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔
تاہم، تازہ ترین اندرونی جائزوں اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اصل اخراجات 50 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ اس بھاری رقم میں تباہ ہونے والے فوجی ساز و سامان کی قیمت شامل نہیں کی گئی تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کے دوران امریکہ کے 24 جدید ترین ایم کیو-9 ریپر (MQ-9 Reaper) ڈرونز تباہ ہوئے، جن میں سے ایک کی قیمت 3 کروڑ ڈالر سے زائد ہے۔
سینیٹ کی سماعت کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب سینیٹرز نے ان سے اخراجات کی درستگی پر سوالات کیے۔ ہیگستھ نے اعتراف کیا کہ مستقبل میں فوجی اڈوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے اخراجات کا فی الحال درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں کہ خطے میں امریکی فوج کی مستقل موجودگی کی نوعیت کیا ہوگی۔
جنگی پس منظر اور موجودہ صورتحال
امریکہ اور اسرائیل نے رواں سال 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے خلیج میں امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ اس کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور معیشت شدید متاثر ہوئی۔
اگرچہ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور اسلام آباد میں مذاکرات بھی ہوئے، لیکن فریقین کسی مستقل معاہدے پر نہ پہنچ سکے۔ حال ہی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی ہے، لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔
ریپبلکن سینیٹرز کا سخت موقف
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، ریپبلکن سینیٹرز کا ایک گروپ ایران کے خلاف باقاعدہ "فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت" (AUMF) حاصل کرنے کے لیے ایوان میں ووٹنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ ان سینیٹرز کا موقف ہے کہ ایران کو مستقل طور پر لگام ڈالنے کے لیے صدر کے پاس مزید وسیع اختیارات ہونے چاہئیں۔
تاہم، ڈیموکریٹک ارکان اور بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کی قرارداد خطے میں ایک نئی اور طویل جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے معاشی نقصانات امریکہ کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوں گے۔
معاشی اثرات اور عوامی ردعمل
جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے امریکی عوام اور سیاست دانوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ 50 ارب ڈالر کی یہ رقم امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادا کی جا رہی ہے، جبکہ امریکہ پہلے ہی اندرونی معاشی مسائل کا شکار ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو یہ اخراجات یومیہ اربوں ڈالر تک جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ایران پالیسی پر بحث میں شدت متوقع
آنے والے دنوں میں امریکی سینیٹ میں ایران پالیسی پر بحث مزید شدت اختیار کرنے کی توقع ہے۔ ایک طرف جہاں فوجی قیادت اخراجات کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف سیاسی حلقوں میں ایران کے خلاف سخت کارروائی کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے ہیں۔
عالمی برادری، خاص طور پر پاکستان اور دیگر خلیجی ممالک، اس کوشش میں ہیں کہ جنگ بندی کو ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔ تاہم، واشنگٹن کی موجودہ سیاسی صورتحال دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا اونٹ ابھی کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔

Post a Comment