کراچی میں انسانیت سوز سانحہ: معصوم بچوں میں ایڈز کا پھیلاؤ اور حکومت سندھ کی خاموشی
تحریر: ارمان صابر
کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، آج سنگین مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ لیکن حال ہی میں ایک ایسا لرزہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ "ارمان صابر وی لاگز" پر فہیم صدیقی کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں کراچی کے ایک ہسپتال میں معصوم بچوں میں ایچ آئی وی (ایڈز) پھیلنے کے ہولناک واقعے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک مجرمانہ غفلت ہے جس نے سینکڑوں خاندانوں کی خوشیاں برباد کر دی ہیں۔
سائٹ ہسپتال کا ایڈز سکینڈل: ایک ہی سرنج سے موت بانٹنے کا دھندہ
کراچی کے علاقے سائٹ (SITE) میں واقع ولیکا کلثوم بائی ہسپتال، جو کہ سوشل سیکیورٹی (SESSI) کے تحت چلتا ہے، وہاں سے ایک ایسی داستان سامنے آئی ہے جسے سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ اس ہسپتال میں غریب مزدوروں کے بچے علاج کے لیے آتے ہیں، لیکن وہاں کے عملے کی مبینہ غفلت کی وجہ سے ان معصوموں کو ایسی بیماری تحفے میں ملی جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔
تحقیقات کے مطابق، ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں نرسنگ اسٹاف اور انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر ایک ہی سرنج کا استعمال متعدد بچوں پر کیا گیا۔ اس مجرمانہ فعل کے نتیجے میں اب تک 200 سے زائد بچے ایچ آئی وی پوزیٹو ہو چکے ہیں۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس غفلت کے باعث اب تک 8 معصوم بچے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان بچوں کی عمریں محض چند ماہ سے لے کر ایک دو سال تک تھیں۔ ان میں ایسے بہن بھائی بھی شامل ہیں جو ایک ساتھ اس موذی مرض کا شکار ہوئے۔
انتظامیہ کی چشم پوشی اور حقائق کو چھپانے کی کوشش
اس پورے واقعے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ حکام کا رویہ ہے۔ جب متاثرہ بچوں کے والدین نے نجی لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروائے اور ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی، تو ہسپتال کے ایم ایس اور دیگر حکام نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ سرکاری سطح پر ٹیسٹ رپورٹس کو تبدیل کرنے اور حقائق کو دبانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے شکایت کی تو انہیں تسلی بخش جواب دینے کے بجائے ڈرایا دھمکایا گیا۔
ایک متاثرہ والد نے انکشاف کیا کہ ان کی اہلیہ نے خود اپنی آنکھوں سے نرس کو ایک ایچ آئی وی پوزیٹو بچے کو لگائی گئی سرنج دوسرے بچے کو لگاتے ہوئے دیکھا۔ جب اس پر احتجاج کیا گیا تو الٹا والدین کو ہی خاموش کرا دیا گیا۔ حکومت سندھ اور محکمہ صحت کی اس معاملے پر خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ کیا غریب کے بچے کی جان اتنی سستی ہے کہ اسے سسٹم کی کرپشن اور نااہلی کی نذر کر دیا جائے؟
ایم کیو ایم کی سیاست اور کراچی کے اسٹریٹ کرائمز
وی لاگ میں کراچی کے دیگر سنگین مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی شرح اس قدر بڑھ چکی ہے کہ پچھلے تین ماہ میں تقریباً نو ہزار موٹر سائیکلیں چوری یا چھینی جا چکی ہیں۔ آئی جی سندھ کا یہ بیان کہ "کراچی کا کرائم لندن اور نیویارک سے بہتر ہے" شہریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
ایم کیو ایم (پاکستان) کی موجودہ سیاست اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ پی ایس پی (پاک سر زمین پارٹی) کے انضمام کے باوجود اب تک الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں اس کا برقرار رہنا اور حالیہ ڈی لسٹنگ کے پیچھے چھپے مقاصد کو بے نقاب کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایم کیو ایم کے اندرونی انٹرا پارٹی الیکشن میں نئی قیادت سامنے آنے کے امکانات ہیں، جس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا نام بطور مضبوط امیدوار ابھر رہا ہے۔ شہر کی سیاسی صورتحال اس وقت انتہائی پیچیدہ ہے جہاں ہر جماعت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، لیکن عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔
ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن اور حکومتی رویہ
کراچی میں ریڈ لائن اور یونیورسٹی روڈ جیسے منصوبے کرپشن اور نااہلی کی جیتی جاگتی مثال بن چکے ہیں۔ ان منصوبوں کی لاگت اصل تخمینے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے لیکن کام مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ورلڈ بینک جیسے عالمی ادارے بھی ان بے قاعدگیوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
سندھ کے حکمرانوں کا رویہ بھی تنقید کی زد میں ہے۔ جب صحافی ان سے عوامی مسائل پر سوال کرتے ہیں، تو جواب دینے کے بجائے ذاتی حملے کیے جاتے ہیں۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں "فادر آف دی سٹی" کے طور پر ڈیلیور کرنا چاہیے نہ کہ تنقید کرنے والوں پر برسنا چاہیے۔ کراچی کے عوام پینے کے صاف پانی کی لائنوں میں گر رہے ہیں، گٹر ابل رہے ہیں اور سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں، مگر حکمران سب اچھا ہے کی گردان الاپ رہے ہیں۔
کیا کراچی کو کبھی انصاف ملے گا؟
ولیکا ہسپتال کا واقعہ صرف ایک ہسپتال کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ہیلتھ کیئر سسٹم کی ناکامی ہے۔ یہ ان والدین کے لیے ایک کبھی نہ ختم ہونے والا صدمہ ہے جن کے بچے اب ساری زندگی اس بیماری کے ساتھ گزاریں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار ڈاکٹروں، نرسوں اور انتظامیہ کے خلاف قتل کے مقدمات درج کیے جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی مالی و طبی امداد یقینی بنائی جائے۔
کراچی کے عوام کو اب جاگنا ہوگا اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنی ہوگی۔ سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ وہ فوٹو سیشنز اور پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے اس شہر کے حقیقی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔ کیا یہ معصوم بچے صرف اس لیے مرتے رہیں گے کہ وہ ایک غریب مزدور کے گھر پیدا ہوئے ہیں؟ یہ سوال ہم سب کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔
Post a Comment