ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں توسیع کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

Iran-US conflict, Oil Prices, Global Economy, Donald Trump, Strait of Hormuz, Trade Blockade

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ تیزی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو مزید طویل کرنے کی ہدایات کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ بڑھانا ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ ایران کے خلاف طویل المدتی ناکہ بندی کی مکمل تیاری کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری نقل و حمل کو روکنا بمباری کرنے یا تنازع سے مکمل باہر نکلنے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور کم خطرناک ہے۔ دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تباہی کے دہانے پر ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری تجارت کے لیے کھولا جائے۔

عالمی منڈی میں قیمتوں کی صورتحال دیکھی جائے تو برینٹ کروڈ کی قیمت 52 سینٹ اضافے کے ساتھ 111.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مسلسل آٹھواں دن ہے جب برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت بھی 57 سینٹ بڑھ کر 100.50 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی 20 فیصد توانائی کی ترسیل ہوتی ہے، وہاں جاری کشیدگی نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک اور وجہ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں ہونے والی کمی ہے۔ امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں 1.79 ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ادھر تہران نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا منصوبہ بھی پیش کیا تھا جس میں آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم امریکی صدر نے ان تجاویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔

مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو اگر امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کم نہ ہوا اور ناکہ بندی میں مزید سختی کی گئی تو عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.