امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ نے ایران کی فوجی طاقت سے متعلق ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کر دیا
امریکی انٹیلی جنس اداروں کی تازہ ترین رپورٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کی تردید کر دی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ جمعرات کے روز سامنے آنے والی ان رپورٹس کے مطابق، امریکی دفاعی حکام کا ماننا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور حملوں کے باوجود ایران اب بھی اہم دفاعی اور جارحانہ فوجی صلاحیتیں رکھتا ہے۔
یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان خطے میں شدید تناؤ پایا جا رہا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات جاری کر رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز (NBC News) کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس اور قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کے ادارے 'ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی' (DIA) نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ہزاروں میزائل اور ڈرونز موجود ہیں۔ یہ رپورٹ صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ان بیانات کے برعکس ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ نے ایرانی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ایران کی دفاعی صنعت کو ختم کر دیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل جیمز ایڈمز نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا یہ اسلحہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں کے لیے اب بھی ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں ایران کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
دوسری جانب، ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فوجی طاقت برقرار ہے اور وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ اور صدر کے بیانات میں یہ فرق امریکی انتظامیہ کے اندر پالیسی اور معلومات کے تبادلے پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں یہ متضاد معلومات آنے والے دنوں میں مذاکرات کے عمل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ جہاں ٹرمپ انتظامیہ ایران کو مکمل طور پر شکست خوردہ دیکھنا چاہتی ہے، وہی فوجی ماہرین زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط کا مشورہ دے رہے ہیں۔ مستقبل میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا دونوں ممالک مستقل جنگ بندی کی طرف بڑھتے ہیں یا انٹیلی جنس رپورٹس میں بیان کردہ خطرات دوبارہ کسی بڑے ٹکراؤ کی وجہ بنتے ہیں۔

Post a Comment