اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی کوششیں تیز؛ پاکستان کا ثالثی میں اہم کردار
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی ہے، جس میں ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر اپنا جواب جمع کرایا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ وہ فی الحال امریکی وفد سے کسی بھی قسم کی براہِ راست میز پر نہیں بیٹھیں گے۔ ایران کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات اور جوابات صرف پاکستانی حکام کے ذریعے ہی امریکہ تک پہنچائے گا۔
دوسری جانب، واشنگٹن سے آنے والا امریکی وفد، جس میں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں، پاکستانی قیادت سے ملاقات کر کے ایران کے جواب پر غور کرے گا۔ وائٹ ہاؤس نے اس عمل کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کسی بھی براہِ راست ملاقات کی خبریں درست نہیں ہیں۔
اس سفارتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کی جانب سے بحری محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اس پر دباؤ کی پالیسی ختم نہیں کرتا، باقاعدہ مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ پاکستان اس وقت ایک بردبار اور منجھے ہوئے مصالحت کار کا کردار ادا کر رہا ہے جو دونوں فریقوں کے سخت موقف کو سن کر ایک دوسرے تک پہنچا رہا ہے اور ساتھ ہی انہیں جنگ بندی بنائے رکھنے پر بھی قائل کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ براہِ راست مذاکرات نہیں ہیں، لیکن پاکستان کی وساطت سے پیغامات کا تبادلہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔ اگر فریقین لچک دکھاتے ہیں تو آنے والے دنوں میں بالواسطہ رابطوں کا یہ سلسلہ کسی بڑے معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے، جس سے خطے میں جاری بے یقینی کی فضا ختم ہونے کی امید ہے۔

Post a Comment