صدر مملکت آصف علی زرداری کا دورہ چین: علاقائی کشیدگی اور اقتصادی استحکام پر اہم پیش رفت
یہ دورہ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی حالات نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس دورے کے دوران صدر زرداری چینی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے جن میں اقتصادی تعاون، سی پیک (CPEC) اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
صدر آصف علی زرداری 25 سے 27 اپریل تک چین کے صوبے ہونان کے شہر 'چانگشا' میں قیام کریں گے، جس کے بعد وہ 28 اپریل سے یکم مئی تک جزیرہ ہینان کے شہر 'سانیا' کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان 75 سالہ سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور اقتصادی شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے۔
ایران جنگ اور چین کا 'خاموش مگر موثر' کردار
حالیہ علاقائی تناظر میں دیکھا جائے تو ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ اور دیگر طاقتیں اس تنازع میں براہ راست یا بالواسطہ ملوث نظر آتی ہیں، وہیں چین نے ایک 'خاموش سہولت کار' کا کردار اپنایا ہے۔
چین نے تہران پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے جنگ کی آگ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، صدر زرداری کے اس دورے میں چین کی جانب سے خطے میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کے ذریعے کسی ممکنہ ثالثی یا امن منصوبے پر بھی بات ہو سکتی ہے۔ چین کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ براہ راست فوجی مداخلت کے بجائے اقتصادی استحکام اور مذاکرات کے ذریعے ایران اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان توازن برقرار رکھے۔
سی پیک اور علاقائی ترقی
دورے کے دوران 'چین پاکستان اقتصادی راہداری' (CPEC) کے دوسرے مرحلے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ پاکستان اور چین اس بات پر متفق ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے معاشی ترقی لازمی ہے۔ صدر زرداری چینی حکام سے بات چیت میں تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کے نئے منصوبوں کو حتمی شکل دیں گے۔
پاکستانی قیادت کا موقف ہے کہ ایران جنگ کے اثرات سے بچنے کے لیے سی پیک جیسے منصوبوں کو مزید تیز کرنا ضروری ہے تاکہ توانائی اور تجارت کے متبادل راستے محفوظ رہ سکیں۔ چین کی جانب سے پاکستان کو مالیاتی استحکام کے لیے تعاون کی یقین دہانی بھی اس دورے کا ایک اہم حصہ ہے۔
75 سالہ دوستی کا نیا سفر
یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک اس تاریخی سنگ میل کو 'ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار' کے طور پر منا رہے ہیں۔ صدر زرداری کے اس دورے سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام بھی جائے گا کہ پاکستان اور چین خطے میں امن اور ترقی کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کا یہ دورہ دفاعی اور اقتصادی دونوں لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر جب عالمی طاقتیں بلاک سیاست میں مصروف ہیں، پاکستان اور چین اپنی دوستی کو مزید گہرا کر کے ایک مستحکم علاقائی بلاک تشکیل دے رہے ہیں۔

Post a Comment