وٹامن ڈی کا استعمال ادھیڑ عمری میں الزائمر کے خطرے کو کم کر سکتا ہے: نئی طبی تحقیق
حالیہ طبی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ادھیڑ عمری (درمیانی عمر) میں جسم میں وٹامن ڈی کی بھرپور مقدار بڑھاپے میں الزائمر اور یادداشت کی کمی جیسی بیماریوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے اپنی تحقیق میں پایا ہے کہ جن افراد کے خون میں وٹامن ڈی کی سطح بہتر ہوتی ہے، ان کے دماغ میں زہریلے پروٹین (Tau Tangles) بننے کا عمل کم ہو جاتا ہے، جو کہ الزائمر کی بیماری کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
آئرلینڈ کی یونیورسٹی آف گالوے سے تعلق رکھنے والے ماہرِ اعصابی علوم مارٹن ڈیوڈ ملیگن اور ان کے ساتھیوں نے اس تحقیق کے لیے 793 بالغ افراد کے دماغی اسکینز کا جائزہ لیا۔
ان افراد کے معائنے دو مختلف ادوار میں کیے گئے، پہلے 39 سال کی عمر میں اور پھر 16 سال بعد۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ درمیانی عمر میں وٹامن ڈی کی کمی دماغی خلیات کے درمیان رابطے کو متاثر کرنے والے پروٹینز کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ اس کی مطلوبہ مقدار دماغی صحت کی ضامن ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ نتائج حتمی طور پر کسی وجہ اور اثر کو ثابت نہیں کرتے، تاہم یہ اس بات کی طرف واضح اشارہ ہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی کو دور کر کے مستقبل میں ڈیمنشیا (یادداشت کی کمی) کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مچھلی کا استعمال، فورٹی فائیڈ غذائیں اور دھوپ میں وقت گزارنا وٹامن ڈی حاصل کرنے کے بہترین ذرائع ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ لوگ اپنی درمیانی عمر میں وٹامن ڈی کے لیول کا باقاعدگی سے معائنہ کروائیں کیونکہ اس مرحلے پر طرزِ زندگی میں تبدیلی لانا بڑھاپے میں ذہنی امراض سے بچنے کے لیے سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں مزید وسیع پیمانے پر مطالعہ کیا جا رہا ہے تاکہ اس تعلق کو مزید واضح کیا جا سکے۔

Post a Comment