ٹرمپ کا دعویٰ جنگ ختم ہونے کے قریب، عارضی جنگ بندی برقرار، اسلام آباد میں مذاکرات متوقع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اب اختتام کے قریب ہے اور آئندہ چند روز میں اہم پیش رفت متوقع ہے، جبکہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری عارضی جنگ بندی بدستور برقرار ہے اور سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات جلد اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، اور انہوں نے اس عمل میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس بات کو “انتہائی ممکن” قرار دیا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ بحال ہو جائے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ ہفتوں میں شدید جھڑپوں کے بعد پاکستان کی درخواست پر دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا تاکہ سفارتکاری کو موقع دیا جا سکے۔ اس جنگ میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات طویل ہونے کے باوجود کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم دونوں فریقین نے رابطے جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی، جس سے امید پیدا ہوئی کہ تعطل کے باوجود بات چیت کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکہ نے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں جبکہ خلیجی پانیوں خصوصاً آبنائے ہرمز میں جہازرانی مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی، جس سے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور علاقائی کردار سے متعلق اختلافات ہیں، جہاں امریکہ سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے جبکہ ایران اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ انچاس سال کی بداعتمادی ایک دن میں ختم نہیں ہو سکتی اس میں وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انچاس سال میں ایران اور امریکا کے درمیان پہلی بار اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے ہے اور یہ حوصلہ افزا ہے کہ بات چیت آگے بڑھ رہی ہے۔
پاکستان اس تمام صورتحال میں کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے اور اس نے نہ صرف جنگ بندی ممکن بنانے میں کردار ادا کیا بلکہ امریکہ، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے درمیان رابطے بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں تاکہ کشیدگی کو مستقل طور پر کم کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال کو ایک “نازک جنگ بندی” قرار دیا جا رہا ہے جہاں ایک طرف براہ راست لڑائی رکی ہوئی ہے تو دوسری جانب اعتماد کا فقدان اور اسٹریٹیجک دباؤ برقرار ہے، اور یہی عوامل آئندہ مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کریں گے۔

Post a Comment