امریکہ کا ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ، جے ڈی وینس کا ’اکنامک ٹیررازم‘ کا الزام: ایران کااحتجاج

US blockade of Iranian ports starts as JD Vance accuses Iran of economic terrorism after failed talks.

اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کو ایران کی خود مختاری کی ’سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے عالمی ادارے سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کے مکمل محاصرے کا حکم دیا۔

اقوامِ متحدہ میں ایرانی احتجاج

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام لکھے گئے ایک باضابطہ خط میں ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے موقف اختیار کیا کہ امریکہ کی یہ ’غیر قانونی‘ ناکہ بندی بین الاقوامی سمندری قوانین کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ دوسری جانب سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا احترام کریں، کیونکہ یہ راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

جے ڈی وینس کا ’اکنامک ٹیررازم‘ کا الزام

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک حالیہ انٹرویو میں ایران پر ’معاشی دہشت گردی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں عالمی جہاز رانی کو روک کر پوری دنیا کی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وینس نے واضح کیا کہ اگر ایران معاشی دہشت گردی کرے گا تو امریکہ بھی اسی زبان میں جواب دے گا اور اب کوئی بھی ایرانی جہاز بندرگاہ سے باہر نہیں نکل سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کی گیند اب ایران کے کورٹ میں ہے اور جب تک ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر امریکی شرائط تسلیم نہیں کرتا، یہ دباؤ برقرار رہے گا۔

پاکستان میں مذاکرات کی ناکامی اور موجودہ صورتحال

گزشتہ ہفتے کے آخر میں اسلام آباد، پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوئے تھے جن میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کر رہے تھے۔ تاہم، ایران کی جانب سے ایٹمی افزودگی روکنے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے مطالبات مسترد کیے جانے کے بعد یہ مذاکرات ناکام ہو گئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق، پیر کی صبح سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کر دی گئی ہے، جس کا مقصد ایران کی درآمدات اور برآمدات کو روکنا ہے۔

عالمی معیشت پر اثرات

آبنائے ہرمز سے دنیا کی ضرورت کا تقریباً 20% تیل اور گیس گزرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین محاصرے اور کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے برطانیہ سمیت کئی ممالک میں توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری اس وقت گہری تشویش میں مبتلا ہے کہ کہیں یہ معاشی جنگ ایک بڑے فوجی تصادم میں تبدیل نہ ہو جائے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.