برصغیر کی معروف گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

Legendary Indian singer Asha Bhosle passed away at 92 in Mumbai

بھارتی موسیقی کی دنیا کا ایک اور روشن ستارہ بجھ گیا۔ برصغیر پاک و ہند کی مقبول ترین اور ورسٹائل گلوکارہ آشا بھوسلے 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات کی خبر سامنے آتے ہی پوری دنیا میں موجود ان کے مداحوں اور موسیقی کی صنعت میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔

Centered Tweet

موسیقی کے ماہرین کے مطابق آشا بھوسلے صرف ایک گلوکارہ نہیں بلکہ ایک ادارہ تھیں۔ انہوں نے 1943 میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ہزاروں فلمی گانے ریکارڈ کروائے۔ ان کی آواز کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ہر قسم کے گانے، چاہے وہ غزل ہو، پاپ میوزک ہو یا کلاسیکی گیت، نہایت مہارت سے گاتی تھیں۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز نے بھی انہیں موسیقی کی تاریخ میں سب سے زیادہ اسٹوڈیو ریکارڈنگز کروانے والی فنکارہ کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

آشا بھوسلے کی بڑی بہن، لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر تھیں، جن کے انتقال کے بعد آشا خاندان اور موسیقی کے چاہنے والوں کے لیے ایک بڑا سہارا تھیں۔ انہوں نے نہ صرف اردو اور ہندی بلکہ کئی علاقائی اور بین الاقوامی زبانوں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ان کے مشہور گانوں میں 'دم مارو دم'، 'چرا لیا ہے تم نے جو دل کو' اور 'انکھوں کی مستی کے' جیسے بے شمار سدا بہار گیت شامل ہیں جو آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔

آشا بھوسلے کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں بھارت کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات 'پدم وبھوشن' اور 'دادا صاحب پھالکے ایوارڈ' سے بھی نوازا گیا۔ ان کی موت پر بھارتی فلم انڈسٹری، سیاسی شخصیات اور کھلاڑیوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر مداح انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں اور ان کی وفات کو ایک عہد کا خاتمہ قرار دے رہے ہیں۔

آشا بھوسلے کی آخری رسومات کے حوالے سے تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی تدفین ممبئی میں کی جائے گی جس میں شوبز اور سیاست کی بڑی شخصیات شرکت کریں گی۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا، لیکن ان کی آواز ہمیشہ ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.