اسلام آباد مذاکرات سمجھوتے کے بغیر ختم، دنیا پر بے یقینی کے بادل نہ چھٹ سکے
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان اہم اور تاریخی مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار رہنے اور عالمی امن کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹ سکے، جس کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، جنہوں نے مذاکرات کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اپنے مؤقف کو واضح طور پر پیش کیا، تاہم ایران نے ان شرائط کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ “ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے اور بغیر کسی ڈیل کے واپس جا رہے ہیں۔
Vice President JD Vance gives an update in Pakistan:
— The White House (@WhiteHouse) April 12, 2026
"The simple fact is that we need to see an affirmative commitment that they will not seek a nuclear weapon, and they will not seek the tools that would enable them to quickly achieve a nuclear weapon." pic.twitter.com/il4THN5DwV
دوسری جانب ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے امریکی مؤقف کو “غیر حقیقت پسندانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایسے مطالبات پیش کیے جو ایران کی خودمختاری اور دفاعی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ امریکا کی سخت شرائط ہیں، جن میں جوہری پروگرام پر مکمل پابندی اور دیگر سکیورٹی معاملات شامل تھے۔
While U.S. authorities accuse Iran of lacking “good faith” and engaging in “extortion,” elements within the U.S. policy and media space are outright recommending the assassination of Iranian negotiators in the event that negotiations fail.
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) April 11, 2026
Is this not, in effect, a policy… pic.twitter.com/DeDrnUhe0o
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث تیل کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوئی، جس سے عالمی مارکیٹ میں بے چینی دیکھی گئی۔
اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات اس لحاظ سے بھی غیر معمولی تھے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست اعلیٰ سطح کے رابطے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک اہم موقع تھا کہ دونوں ممالک جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کر سکتے تھے، تاہم گہرے اختلافات اور باہمی عدم اعتماد اس عمل کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے رہے۔
اختلافاتی نکات
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں چند اہم نکات پر شدید اختلافات سامنے آئے، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، خطے میں اس کا کردار، اقتصادی پابندیاں، اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول شامل ہیں۔ امریکا کا مؤقف تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے سے مکمل طور پر دستبردار ہو، جبکہ ایران نے اس مطالبے کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف قرار دیا۔
پاکستان نے ان مذاکرات میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستانی قیادت نے اس موقع کو خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان آئندہ بھی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
🔊PR No.1️⃣0️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) April 12, 2026
Remarks by the DPM/FM at the conclusion of the Islamabad Talks
🔗⬇️ pic.twitter.com/ySCYFStWSJ
مذاکرات کے دوران تکنیکی سطح پر بھی بات چیت ہوئی، تاہم کسی بڑے بریک تھرو کی توقع پوری نہ ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض معاملات پر جزوی اتفاق رائے پیدا ہوا، لیکن بنیادی تنازعات اپنی جگہ برقرار رہے، جس کے باعث معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔
ادھر عالمی برادری نے مذاکرات کی ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سفارتی راستہ اختیار کریں اور کشیدگی میں کمی لائیں۔ کیتھولک رہنما پوپ نے بھی جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کی اپیل کی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملے بھی جاری ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ان حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو چکی ہیں، جس کے باعث انسانی بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔
سفارتی عمل جاری رہنے پر زور
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں، تاہم یہ سفارتی عمل کا اختتام نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا برقرار رہنا خود ایک مثبت پیش رفت ہے، جسے آئندہ مذاکرات کے لیے بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے حوالے سے ایک محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو، امریکا اپنی پوزیشن مضبوط سمجھتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرے گا، تاہم اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا چیلنج باہمی اعتماد کی کمی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر بداعتمادی کا اظہار کر رہے ہیں، جس کے باعث کسی بھی معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں جاری دیگر تنازعات، خصوصاً لبنان اور خلیجی صورتحال، بھی مذاکرات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
پاکستانی عوام اور سیاسی حلقوں میں ان مذاکرات کو بڑی اہمیت دی جا رہی تھی، اور امید کی جا رہی تھی کہ یہ خطے میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوں گے۔ تاہم مذاکرات کی ناکامی نے ان توقعات کو وقتی طور پر دھچکا پہنچایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر دونوں ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو ممکن ہے کہ کچھ پیش رفت ہو سکے، تاہم اس کے لیے لچک اور سنجیدگی دونوں جانب سے ضروری ہوگی۔

Post a Comment