اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان صدی کے اہم ترین مذاکرات: قیامِ امن کے لیے پاکستان کا تاریخی کردار

US-Iran historic Islamabad talks: Full coverage

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اس وقت عالمی سیاست کا مرکز و محور تبدیل ہو رہا ہے۔ امریکہ اور ایران، جو کہ گزشتہ چار دہائیوں سے ایک دوسرے کے شدید حریف رہے ہیں، اب ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھ کر اپنے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اتنی اعلیٰ سطح پر براہِ راست بات چیت ہو رہی ہے۔ پاکستان نے اس نازک موڑ پر ایک ایسی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے جس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

مذاکرات کا پس منظر اور پاکستان کی میزبانی

گزشتہ کئی ہفتوں سے پسِ پردہ رہنے والی سفارتی کوششیں اس وقت رنگ لائیں جب پاکستان نے دونوں فریقین کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پاکستانی عسکری قیادت کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران اس بات پر راضی ہوئے کہ وہ کسی تیسرے ملک کی ثالثی کے بغیر، لیکن پاکستان کی سہولت کاری میں براہِ راست بات کریں گے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے سفارت کار اور عالمی میڈیا کے نمائندے اس تاریخی لمحے کے گواہ بن رہے ہیں۔

اعلیٰ سطح کے وفود کی شرکت

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے کے طور پر یہاں پہنچے ہیں۔ ان کے ساتھ جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف جیسے بااثر افراد بھی شامل ہیں، جو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے اپنے سب سے تجربہ کار سفارت کار اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھیجا ہے، جن کے ہمراہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود ہیں۔ ان وفود کی سطح سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اس بار صرف رسمی بات چیت نہیں بلکہ ٹھوس نتائج چاہتے ہیں۔

مذاکرات کے کلیدی نکات: کیا بات ہو رہی ہے؟

مذاکرات کے پہلے اور دوسرے دور میں کئی اہم نکات پر بحث کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایجنڈے میں درج ذیل موضوعات سرفہرست ہیں:

منجمد اثاثوں کی واپسی: ایران کا سب سے بڑا مطالبہ مختلف بین الاقوامی بینکوں میں پڑے اپنے اربوں ڈالرز کی واپسی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے خیر سگالی کے طور پر ان اثاثوں کے ایک حصے کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر جاری کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

ایٹمی پروگرام اور پابندیاں: امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام پر دوبارہ سے سخت نگرانی قبول کرے، جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کے بدلے میں تمام معاشی پابندیاں فی الفور اٹھائی جائیں۔

علاقائی اثر و رسوخ اور سیکیورٹی: لبنان، یمن اور شام کی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام چاہتا ہے تاکہ عالمی تجارت، بالخصوص تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو۔

قیدیوں کا تبادلہ: ایک اور انسانی ہمدردی کا پہلو دونوں ممالک کی جیلوں میں قید ایک دوسرے کے شہریوں کی رہائی ہے۔

صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت کا ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں اس پیش رفت کو "دنیا کا سب سے بڑا ری سیٹ" قرار دے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ ان کے اس بیان سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ دوسری جانب، ایرانی صدر نے تہران میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایرانی وفد اسلام آباد میں صرف "حق اور انصاف" کی بات کر رہا ہے اور وہ اپنے قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، سپریم لیڈر کی جانب سے بھی مذاکرات کے لیے گرین سگنل مل چکا ہے، جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے۔

پاکستان کے لیے اس کی اہمیت

پاکستان نے اس بحران میں خود کو ایک غیر جانبدار اور ذمہ دار ایٹمی قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان کا مقصد صرف دونوں ممالک کو قریب لانا ہے تاکہ خطہ کسی بڑی تباہی سے بچ سکے۔ پاکستان نے اس موقع پر امریکی اور ایرانی صحافیوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کی ہے تاکہ دنیا کو اس عمل میں شفافیت نظر آئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کا عالمی قد کاٹھ بہت بلند ہو جائے گا اور اسے مستقبل میں بھی بڑے تنازعات کے حل کے لیے ایک قابلِ اعتماد مرکز سمجھا جائے گا۔

عالمی برادری کی نظریں اور مستقبل کا منظرنامہ

اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور چین نے بھی اسلام آباد مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔ روس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ان مذاکرات کے نتائج کو مانیٹر کر رہا ہے اور امید کرتا ہے کہ اس سے عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام آئے گا۔

مذاکرات کے اگلے ادوار میں مزید مشکل فیصلے متوقع ہیں۔ اگرچہ کئی دہائیوں کی دشمنی چند دنوں میں ختم ہونا مشکل ہے، لیکن اسلام آباد کی فضاؤں میں موجود امید کی لہر یہ بتاتی ہے کہ دنیا ایک نئی اور پرامن تبدیلی کی دہلیز پر کھڑی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر آنے والے 48 گھنٹوں میں کسی فریم ورک پر اتفاق ہو جاتا ہے، تو یہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سفارتی واقعہ ہوگا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.