فلم "دھریندھر 2" میں گالی کیوں دی گئی؟ صحافی صدام طفیل برہم، قانونی چارہ جوئی پر غور
تحریر ارمان صابر
بھارتی فلم انڈسٹری (بالی وڈ) اکثر حقیقی واقعات اور شخصیات سے متاثر ہو کر فلمیں بناتی ہے، لیکن کیا ہو جب کسی صحافی کی حقیقی زندگی کے خطرناک لمحات کو فلم کا حصہ تو بنایا جائے مگر اس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے؟
حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم "دھورندھر 2" (Dhurandhar 2: The Revenge) میں ایک ایسا سین دکھایا گیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فلم میں لیاری آپریشن کے دوران ایک رپورٹر اور پولیس افسر (سنجے دت، جو چوہدری اسلم کا کردار ادا کر رہے ہیں) کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ دکھایا گیا ہے۔ لیکن اس سین کی حقیقت کیا ہے؟ کیا واقعی چوہدری اسلم نے رپورٹر کو گالی دی تھی؟
انہی سوالات کا جواب جاننے کے لیے ہم نے بات کی معروف سینئر صحافی صدام طفیل سے، جن کے اصل کردار اور ویڈیو کو اس فلم میں "ری اینیکٹ" (Re-enact) کیا گیا ہے۔
فلم "دھورندھر 2" اور صدام تفییل کا کردار
صدام طفیل بتاتے ہیں کہ 2012 میں لیاری آپریشن کے دوران ان کی ایک رپورٹنگ ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ شدید فائرنگ کے دوران اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کوریج کر رہے تھے۔ فلم "دھریندھر 2" میں بعینہٖ اسی سین کو فلمایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ رپورٹر کے کپڑے، حرکات و سکنات اور بولے گئے الفاظ بھی صدام طفیل کی اصل ویڈیو سے لیے گئے ہیں۔
صدام تفییل کا کہنا ہے کہ:
"فلم دیکھ کر کوئی اندھا بھی بتا سکتا ہے کہ یہ میرا کردار ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ پروڈکشن ٹیم نے نہ تو مجھ سے اجازت لی اور نہ ہی حقائق کو درست طریقے سے پیش کیا۔"
کیا چوہدری اسلم نے گالی دی تھی؟
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ سنجے دت (چوہدری اسلم) رپورٹر کو گالی دیتے ہوئے سائیڈ پر ہونے کا کہتے ہیں۔ اس پر صدام طفیل نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ چوہدری اسلم کا تاثر جرائم پیشہ افراد کے ساتھ جو ہے وہ صحافیوں کے ساتھ نہیں تھا۔ وہ صحافیوں سے پروفیشنل اور اخلاق کی حدود میں بات کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری اسلم ایک نہایت بااخلاق اور پروفیشنل انسان تھے۔ انہوں نے کبھی کسی صحافی کے ساتھ بدتمیزی یا گالی گلوچ نہیں کی۔پاکستان میں صحافیوں اور پولیس افسران کے درمیان ایک احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا کلچر حقیقت سے بالکل برعکس ہے۔
صدام طفیل نے کہا کہ کسی کی اجازت کے بغیر اس کا کردار دکھانا اور پھر اس میں اپنی طرف سے گالی شامل کرنا میڈیا اخلاقیات کے خلاف ہے۔
میڈیا ایتھکس اور قانونی چارہ جوئی
صدام طفیل نے بالی وڈ ڈائریکٹر آدتیہ دھر اور ان کی ٹیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سلمان خان نے فلم "بجرنگی بھائی جان" میں 'چاند نواب' کا کردار لینے سے پہلے ان سے اجازت لی تھی اور انہیں معاوضہ دیا تھا، ویسا ہی پروفیشنل رویہ یہاں بھی اپنانا چاہیے تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ قانونی کارروائی کریں گے، تو انہوں نے کہا کہ وہ اس حق کو محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ فلم کے ذریعے ان کی اور چوہدری اسلم کی کردار کشی کی گئی ہے۔
صدام طفیل نے اس پاڈکاسٹ میں اور کیا بتایا:
لیاری آپریشن کے وہ لمحات جو کیمرے نے نہیں دکھائے
بلاگ کے اس حصے میں صدام تفییل نے 2012 کے اس خوفناک آپریشن کے پسِ پردہ حقائق بتائے
آٹھ روزہ محاصرہ: لیاری میں بجلی، پانی اور گیس بند تھی اور موبائل ٹاورز گرا دیے گئے تھے۔
خطرناک رپورٹنگ: صدام طفیل پولیس کی اجازت کے بغیر چھپ کر لیاری کے اندر داخل ہوئے، جہاں انہوں نے عزیر بلوچ اور دیگر گینگ وار شخصیات کے انٹرویوز کیے۔
عزیر بلوچ نے انہیں متنبہ کیا تھا کہ "اگر آپ کو یہاں کچھ ہوا تو الزام ہم پر آئے گا، اس لیے پولیس کی گولی سے بچ کر رہیں۔
فائرنگ کے دوران لیاری کے عام بلوچ خاندانوں نے اپنی جان پر کھیل کر صدام طفیل اور ان کے کیمرہ مین کو اپنے گھروں میں پناہ دی تاکہ وہ پولیس یا گینگ وار کی گولی کا نشانہ نہ بنیں۔
صدام طفیل کا یہ انٹرویو بتاتا ہے کہ صحافت کوئی آسان کام نہیں ہے۔صدام طفیل نے کہا کہ ایک صحافی اپنی جان داؤ پر لگا کر عوام تک سچ پہنچاتا ہے۔ فلم سازوں کو چاہیے کہ وہ "مصالحہ" ڈالنے کے چکر میں حقیقی ہیروز اور ان کی جدوجہد کی توہین نہ کریں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا فلم سازوں کو کسی کی زندگی پر فلم بناتے وقت اس سے اجازت لینی چاہیے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
صدام طفیل کا مکمل موقف دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
دھرندھر 2 اور لیاری آپریشن کی اصل حقیقت - ارمان صابر وی لاگز
Post a Comment