سندھ حکومت کا موٹر سائیکل مالکان کے لیے بڑا ریلیف، رجسٹریشن فیس ختم کرنے کا اعلان

Sindh CM Murad Ali Shah announces 2000 rupees monthly subsidy for motorcycle owners. Registration fees waived and Excise offices to remain open 24/7. سندھ حکومت کا موٹر سائیکل مالکان کے لیے بڑا ریلیف پیکج۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ریلیف پیکج اور رجسٹریشن کے نئے طریقہ کار کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پیٹرول سبسڈی کے طور پر ماہانہ 2 ہزار روپے دے رہی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کے ترجمان عبدالرشید چنا بھی موجود تھے۔

سبسڈی اور رجسٹریشن کا طریقہ کار

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ یہ رقم صرف انہی افراد کو ملے گی جن کے نام پر موٹر سائیکل رجسٹرڈ ہے۔ اگر ایک شناختی کارڈ پر 3 بائیکس رجسٹرڈ ہیں، تو سبسڈی صرف ایک ہی بائیک پر دی جائے گی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ اگر انہوں نے کسی سے موٹر سائیکل خریدی ہے تو اسے فوری طور پر اپنے نام منتقل کروائیں۔ عوامی سہولت کے لیے حکومت نے موٹر سائیکل رجسٹریشن کی 500 روپے فیس ختم کر دی ہے اور صوبے بھر میں ایکسائز دفاتر اب صبح 8 سے رات 12 بجے تک کھلے رہیں گے۔ یہ دفاتر ہفتہ اور اتوار کو بھی اپنی خدمات فراہم کریں گے۔

رقم کی منتقلی اور موبائل ایپ

سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ سندھ بھر میں 66 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں۔ سبسڈی کی رقم موبائل ایپ میں رجسٹریشن اور تصدیق کے بعد براہ راست مالک کو منتقل کی جائے گی۔ جن شہریوں کے اکاؤنٹس سندھ بینک میں ہیں، انہیں 24 گھنٹوں میں رقم مل جائے گی، جبکہ دیگر بینکوں کے کھاتہ داروں کو رقم کی منتقلی میں 3 دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اپریل کی سبسڈی اسی ماہ میں فراہم کر دی جائے گی۔

تاجروں اور ٹرانسپورٹرز سے مشاورت

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت نے تاجروں، ریسٹورنٹ مالکان اور ٹرانسپورٹرز سے تفصیلی مشاورت کی ہے۔ تاجروں نے پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور وفاق کی جانب سے بازاروں کی جلد بندی کی تجاویز پر بھی بات چیت جاری ہے۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم کراچی اور سندھ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے اور وفاقی حکومت کو اپنی تجاویز سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 11 ہزار بسیں چل رہی ہیں اور ان کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.