ایران میں حکومت کی تبدیلی کا موساد کا خفیہ منصوبہ بے نقاب کیسے ہوا، اسرائیلی میڈیا میں ہلچل
اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی 'موساد' کی جانب سے ایران میں حکومت کا تختہ الٹنے کے حوالے سے تیار کیا گیا ایک انتہائی حساس اور خفیہ منصوبہ منظرِ عام پر آگیا ہے۔ پیر کے روز سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، اس لیک ہونے والی معلومات نے اسرائیلی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے ماہرین نے اس لیک کی تصدیق کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا ہے۔
موساد کا یہ منصوبہ اس امید پر مبنی تھا کہ ایران میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کریں گے، جس کے نتیجے میں موجودہ ایرانی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا اور وہاں ایک ایسی قیادت سامنے آئے گی جو مغرب کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہو۔ تاہم، رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موساد نے اسرائیلی کابینہ اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ساتھ بات چیت میں کبھی بھی اس بات کی مکمل ضمانت نہیں دی تھی کہ ایرانی حکومت فوری طور پر گر جائے گی۔
اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حساس معلومات کو 'دی ٹائمز' جیسے بڑے اخبار تک پہنچانے کا مقصد کسی کو قربانی کا بکرا بنانا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر جنگ یا ایران کے حوالے سے اسرائیلی حکمت عملی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے، تو اس کا تمام تر ملبہ موساد کے سربراہ پر ڈالنے کی کوشش کی جائے گی۔ بعض حلقوں کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس لیک کے پیچھے خود اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا ہاتھ ہو سکتا ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داری دوسروں پر منتقل کر سکیں۔
فی الوقت اس انکشاف نے اسرائیل کے اندرونی سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں ایک نیا رخ پیدا کر دیا ہے۔ عالمی مبصرین اس صورتحال کو اسرائیل کی انٹیلی جنس برادری اور سیاسی قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مستقبل میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اس لیک کے بعد موساد کی کارروائیوں اور ایران کے حوالے سے اسرائیلی پالیسی میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

Post a Comment