سندھ کابینہ کا تاریخی اجلاس: گورننس، تعلیم اور عوامی بہبود کے لیے بڑے فیصلوں کی منظوری
کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار گورننس، معیشت، تعلیم، اور کسانوں کی بہبود کے لیے انقلابی اصلاحات کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق، اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکریٹری اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں متوفی کوٹہ کی بحالی، گوگل اسکالرشپس، اور سندھ بینک کے ذریعے درآمدی ایل سیز (LCs) کھولنے جیسے اہم ترین پالیسی فیصلے کیے گئے۔
متوفی کوٹہ کی بحالی اور اہم پالیسی فیصلہ
کابینہ نے ایک بڑے انسانی ہمدردی کے فیصلے کے تحت متوفی کوٹہ (Deceased Quota) کے کیسز کو دوبارہ فعال کرنے کی منظوری دے دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے ستمبر 2024 کے فیصلے کے بعد یہ عمل رک گیا تھا۔ تاہم، کابینہ نے فیصلہ کیا کہ وہ تمام درخواستیں جو ستمبر 2024 سے پہلے جمع کرائی گئی تھیں، ان پر میرٹ کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس فیصلے سے ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو ریلیف ملے گا جو طویل عرصے سے اپنے حق کے منتظر تھے۔
امن و امان اور انفراسٹرکچر: پولیس اسٹیشن کھمبرا کی تعمیر
صوبائی کابینہ نے ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباوڑو میں پولیس اسٹیشن کھمبرا کی نئی عمارت اور ایمرجنسی کیمپ کے لیے 6 ایکڑ اراضی کی الاٹمنٹ منظور کر لی۔ اس منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 125.611 ملین روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ یہ پولیس اسٹیشن پنجاب اور سندھ کے سرحدی علاقوں اور کچے کے قریب ہونے کی وجہ سے انتہائی اہم ہے۔
روہڑی ریلوے اسٹیشن کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن
ریلوے مسافروں کی سہولت کے لیے کابینہ نے روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے لیے 497.574 ملین روپے کی گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دی۔ یہ منصوبہ حکومت سندھ اور پاکستان ریلوے کے درمیان 40:60 کی شراکت داری کی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا، جس کا مقصد مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
مالیاتی اصلاحات: درآمدات کے لیے سندھ بینک کو خصوصی اختیار
معاشی خود مختاری اور شفافیت کی سمت میں قدم بڑھاتے ہوئے، کابینہ نے منظور کیا کہ اب تمام سرکاری محکموں کی درآمدی اشیاء کے لیے لیٹرز آف کریڈٹ (LCs) صرف سندھ بینک کے ذریعے کھولے جائیں گے۔ اس سے قبل یہ فنڈز مختلف نجی بینکوں میں تقسیم ہوتے تھے، لیکن اب اس فیصلے سے سرکاری فنڈز کی بہتر نگرانی ہو سکے گی اور بینک کے تجارتی آپریشنز کو بھی تقویت ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے تمام اداروں کو اس پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی۔
تعلیم اور ڈیجیٹل انقلاب: گوگل کے ساتھ تعاون
نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے گوگل اور ٹیک ویلی پاکستان کے تعاون سے 19,200 اسکالرشپس دینے کا اعلان کیا گیا۔ یہ وظائف 30 مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء کو دیے جائیں گے تاکہ وہ مصنوعی ذہانت (AI)، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسی مہارتیں سیکھ سکیں۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں اساتذہ اور طلباء کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم (SAMRS) کو بھی وسعت دی جائے گی۔
زراعت: سندھ فارمرز زرعی کلیکٹو ایکٹ 2026
کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے کابینہ نے "سندھ فارمرز زرعی کلیکٹو ایکٹ 2026" کے مسودے کی منظوری دی۔ اس قانون کے ذریعے چھوٹے کسانوں کو وسائل کے مشترکہ استعمال، جدید مشینری تک رسائی اور اپنی پیداوار کو بہتر قیمت پر فروخت کرنے کے لیے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
صحت اور غذائیت: حاملہ خواتین کے لیے یونیسیف کا تعاون
محکمہ صحت اور یونیسیف کے درمیان ایک اہم معاہدے کی منظوری دی گئی جس کے تحت حاملہ خواتین کو غذائی سپلیمنٹس (MMS) فراہم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے پر 2.4 ملین ڈالر لاگت آئے گی اور اس کے ذریعے تقریباً 1.37 ملین سپلیمنٹس کی بوتلیں تقسیم کی جائیں گی تاکہ ماں اور بچے کی صحت کو یقینی بنایا جا سکے۔
دیگر اہم فیصلے
اینٹی انکروچمنٹ فورس (AEF): اس فورس کے لیے پہلی بار باقاعدہ سروس اسٹرکچر اور بھرتی کے قوانین منظور کیے گئے، جس سے تجاوزات کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
لیاری ندی: انتظامی سہولت کے لیے لیاری ندی کو باضابطہ طور پر ٹی ایم سی لیاری کے دائرہ اختیار میں دے دیا گیا۔
کمیونٹی مڈوائف ورکرز (CMWs): 94 کنٹریکٹ مڈوائف ورکرز کے معاہدے میں 2027 تک توسیع کر دی گئی ہے تاکہ طبی خدمات کا تسلسل برقرار رہے۔
پنشن واجبات: زرعی مارکیٹ کمیٹیوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے ملازمین کی پنشن کے واجبات اپنے وسائل سے ادا کریں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق، سندھ کابینہ کے ان فیصلوں کا مقصد صوبے میں خدمات کی فراہمی، قانونی نظم و ضبط اور عوامی فلاح و بہبود کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔

Post a Comment