لودھراں میں شادی کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں، بیوٹی پارلر کے اندر دلہن کا قتل

Lodhran tragic news: Cousin shot dead bride in beauty parlor.
لودھراں میں قتل کی جانے والی دلہن سدرہ

لودھراں (نمائندہ خصوصی): جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں  ایک نوجوان نے اپنی کزن کو اس کی شادی کے دن بیوٹی پارلر کے اندر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس لرزہ خیز واقعے نے پورے علاقے میں کہرام مچا دیا ہے اور خوشیوں بھرے گھر میں چند لمحوں کے اندر صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ مقتولہ سدرہ کی آج رخصتی تھی، لیکن وہ پیا گھر جانے کے بجائے منوں مٹی تلے جا سوئی۔

لودھراں کے ایک نواحی گاؤں کے رہائشی غریب مزدور کی دو بیٹیاں تھیں، جن میں 21 سالہ سدرہ بڑی تھی۔ باپ نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اکٹھی کر کے بڑی بیٹی کی شادی کی تیاریاں شروع کر رکھی تھیں۔ 

سدرہ کا رشتہ قریبی گاؤں کے رہائشی اور قریبی رشتہ دار 27 سالہ نعیم سے طے پایا تھا۔ گھر میں کئی روز سے ڈھولک کی تھاپ اور شادی کے گیت گونج رہے تھے، مہندی کی تقریب ہو چکی تھی اور ہر طرف رونق لگی ہوئی تھی۔

ملزم مدثر اور اس کا دہرا روپ

لودھراں میں شادی کے دن کزن نے دلہن کو قتل کر دیا۔ مکمل تفصیلات اور لرزہ خیز واقعے کی رپورٹ۔ Lodhran tragic news: Cousin shot dead bride in beauty parlor.
لودھراں: دلہن سدرہ کا مبینہ قاتل کزن مدثر

اس افسوسناک واقعے کا مرکزی کردار 19 سالہ مدثر ہے، جو مقتولہ کا پھوپھی زاد بھائی تھا۔ مقتولہ کے والد کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے وہ مدثر کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتے تھے اور اسے اپنے گھر کا فرد سمجھتے تھے۔ مدثر بھی شادی کے تمام انتظامات میں سب سے زیادہ متحرک نظر آ رہا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جب سے سدرہ کی شادی طے ہوئی تھی، مدثر کے رویے میں خاموشی اور تبدیلی آئی تھی، لیکن اس نے اپنی نیت کا کسی کو شک ہونے نہ دیا اور تمام تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا۔

واقعے کی لرزہ خیز تفصیلات

شادی والے دن، سدرہ اپنی خالہ کے ہمراہ شہر کے ایک مصروف بیوٹی پارلر میں تیار ہونے کے لیے گئی۔ جانے سے پہلے اس نے معمول کے مطابق گھر والوں کو بتایا اور اپنی چچی کا موبائل فون بھی ساتھ لے لیا تاکہ گھر والوں سے رابطے میں رہے۔ اسی دوران مدثر نے اپنے ماموں (دلہن کے والد) سے کہا کہ وہ انہیں موٹر سائیکل پر شہر لے جاتا ہے تاکہ وہ بارات کے لیے پھولوں کا انتظام کر سکیں۔

شہر پہنچ کر مدثر نے اپنے ماموں کو ایک جگہ اتارا اور یہ کہہ کر نکل گیا کہ اسے کچھ ضروری کام ہے اور وہ تھوڑی دیر میں واپس آ جائے گا۔ تاہم، وہ وہاں سے سیدھا اسی بیوٹی پارلر پہنچا جہاں سدرہ موجود تھی۔ 

عینی شاہدین کے مطابق مدثر پارلر کے اندر داخل ہوا اور اچانک  سدرہ پر حملہ کردیا۔  سدرہ خون میں لت پت ہو کر زمین پر گر پڑی۔ اس کے فوراً بعد مدثر نےاپنی جان لینے کی کوشش میں خود کو بھی زخمی کرلیا۔

پولیس اور ریسکیو کی کارروائی

پارلر میں موجود خواتین کے چیخ و پکار پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 15، فرانزک ٹیم اور 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ سدرہ کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ دم توڑ گئی۔ ملزم مدثر کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال کے آئی سی یو (ICU) میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

علاقے کی صورتحال اور تحقیقات

پولیس نے بیوٹی پارلر کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج قبضے میں لے لی ہے جس میں ملزم کو پارلر میں داخل ہوتے اور واردات کے بعد کی صورتحال کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق واقعہ یکطرفہ محبت کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، تاہم اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مدثر نے کبھی اپنی پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا تھا، ورنہ شاید اس جانی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ 

پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اور دیگر شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اس واقعے نے ایک ہنستے بستے گھر کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.