محبت، دھوکہ اور قتل: نیو کراچی کے ریحان قتل کیس کی لرزہ خیز کہانی

نیو کراچی کے علاقے خواجہ اجمیر نگری میں پیش آنے والا ریحان نامی نوجوان کا قتل محض ایک جرم نہیں بلکہ انسانی رشتوں کی پامالی، بے وفائی اور ایک ہولناک سازش کی وہ داستان ہے جس نے پورے شہر کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ ارمان صابر نے اپنے وی لاگ میں ڈی ایس پی سلمان وحید کے ساتھ مل کر اس کیس کی جو تہیں کھولی ہیں، وہ کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ہمارے معاشرے کے درمیان حقیقت میں رونما ہوا۔ 

اگر آپ وڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو ابھی کلک کریں جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج، مقتول، اور قاتل خاتون کی تصاویر بھی شامل ہیں۔

واقعے کا پس منظر اور ابتدائی تحقیقات

یہ ہولناک واقعہ فجر کے وقت پیش آیا۔ مقتول ریحان فجر کی نماز کے لیے نکلا تھا کہ اپنے گھر کے بالکل سامنے، جو کہ فاروقِ اعظم مسجد کے عین قریب واقع ہے، اسے گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو ابتدائی طور پر اسے اسٹریٹ کرائم کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی، جیسا کہ کراچی میں عام طور پر ہوتا ہے کہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر شہری کو گولی مار دی جاتی ہے۔ لیکن ڈی ایس پی سلمان وحید کے مطابق، جب ایس ایچ او اجمیر نگری نے لاش کا معائنہ کیا تو دو اہم چیزیں سامنے آئیں: مقتول کا موبائل فون اور اس کا پرس دونوں اس کی جیب میں موجود تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ ڈکیتی کی واردات نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ یا ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے۔

تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں پولیس نے مختلف زاویوں پر کام کیا۔ مقتول ریحان کی سیاسی وابستگی بھی تھی، اس لیے ایک پہلو سیاسی دشمنی کا تھا، دوسرا مذہبی اور تیسرا ذاتی عداوت کا۔ تاہم، جیسے جیسے پولیس نے ریحان کے خاندان اور اس کی نجی زندگی کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں، شک کی سوئی گھر کے اندر ہی گھومنے لگی۔ اگر آپ وڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو ابھی کلک کریں

ایک پیچیدہ ازدواجی رشتہ

ریحان کی شادی صدف نامی خاتون سے محض پانچ ماہ قبل ہوئی تھی۔ صدف کی یہ دوسری شادی تھی اور وہ عمر میں ریحان سے چار پانچ سال بڑی تھی۔ صدف کے پہلی شادی سے دو بیٹے بھی تھے جن کی عمریں 9 اور 12 سال تھیں۔ تفتیش میں معلوم ہوا کہ ریحان اور صدف کی شادی "محبت کی شادی" تھی، ریحان نے اپنے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود صدف سے شادی کرنے پر اصرار کیا تھا اور آخر کار گھر والے مان گئے۔ لیکن اس بظاہر محبت بھری شادی کے پیچھے ایک ایسا ماضی چھپا تھا جس کا علم ریحان کو شاید نہیں تھا۔

صدف کا ریحان سے پہلے ایک اور نوجوان، شیزان کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ شیزان نے صدف کی مالی مدد کی تھی، اسے بیوٹی پارلر بنا کر دیا تھا اور ان کے درمیان مبینہ طور پر ناجائز مراسم بھی قائم تھے۔ صدف چاہتی تھی کہ شیزان اس سے فورا شادی کرلے، لیکن اس نے اپنے گھر کی ذمہ داریوں اور گیارہ بہن بھائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دو سال کا وقت مانگا۔ صدف نے انتظار کرنے کے بجائے ریحان سے شادی کرلی، لیکن اس نے شیزان سے رابطہ ختم نہیں کیا۔ اگر آپ وڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو ابھی کلک کریں

تکنیکی شواہد اور قاتل کی گرفتاری

پولیس نے جب مقتول کے گھر والوں کے موبائل فونز کے سی ڈی آر (کال ڈیٹا ریکارڈ) نکالے تو حیران کن حقائق سامنے آئے۔ صدف، شادی کے باوجود، رات کے آخری پہر اور صبح سویرے شیزان کے ساتھ گھنٹوں فون پر بات کرتی تھی۔ ان کی گفتگو کا دورانیہ دو سے چار گھنٹے تک محیط ہوتا تھا۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے پولیس کو ٹھوس سمت فراہم کی۔

پولیس نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اگرچہ جائے وقوعہ کے بالکل قریب کوئی کیمرہ نہیں تھا، لیکن ملحقہ گلیوں کے سات کیمروں نے ایک مشکوک شخص کی نقل و حرکت قید کر لی تھی۔ نیلے رنگ کے شلوار قمیض میں ملبوس، چہرے پر ماسک لگائے یہ شخص واردات کے بعد تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ جب پولیس نے شجان کو حراست میں لیا تو اس کے پاس سے وہی لباس اور ماسک برآمد ہوگیا۔ اگر آپ وڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو ابھی کلک کریں

سازش کا ماسٹر مائنڈ: ساس اور بیوی

دورانِ تفتیش شیزان نے جو انکشافات کیے وہ نہایت ہی بھیانک تھے۔ اس نے بتایا کہ ریحان کو مارنے کا منصوبہ صدف، اس کی ماں  فاطمہ(ریحان کی ساس) اور صدف کے بھائی جبران نے مل کر بنایا تھا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ریحان نے صدف پر پابندیاں لگانا شروع کر دی تھیں، اس کا بیوٹی پارلر بند کروا دیا تھا اور وہ اسے کہیں باہر آنے جانے نہیں دیتا تھا۔ صدف اور اس کی ماں کا خیال تھا کہ اگر ریحان سے طلاق لی گئی تو برادری میں دوسری بار بدنامی ہوگی، کیونکہ صدف کی پہلی طلاق بھی ناگوار حالات میں ہوئی تھی۔

اس "بدنامی" سے بچنے کے لیے انہوں نے ریحان کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ ریحان کی ساس نے شیزان سے ایک اسٹیٹ ایجنسی میں خفیہ ملاقات کی، اس کے پیروں میں گر کر اسے واسطے دیے اور اسے یقین دلایا کہ اگر وہ ریحان کو ختم کر دے گا تو وہ صدف کی شادی اس کے ساتھ کر دیں گے۔ شیزان جو کہ تالے کھولنے کا ماہر تھا، نے اپنے بھائی کے لائسنس یافتہ نائن ایم ایم پستول کی الماری کا تالا کھولا، اسلحہ چوری کیا اور صدف کے بھائی جبران کے ساتھ مل کر اس گھناؤنے جرم کو انجام دیا۔

ایک خاندان کی بربادی

یہ کیس اس لحاظ سے انتہائی لرزہ خیز ہے کہ اس میں ایک عورت (ساس) نے اپنے ہی داماد کے قتل کے لیے اپنی بیٹی کے سابقہ عاشق کو استعمال کیا۔ وہ نوجوان جو اپنی پسند کی شادی کرکے خوشحال زندگی کے خواب دیکھ رہا تھا، اسے اسی عورت نے قتل کروا دیا جس کے گھر اس نے خوشیاں بانٹی تھیں۔ ڈی ایس پی سلمان وحید کا کہنا ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر "بلائنڈ مرڈر" تھا جسے پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی کی مدد سے صرف 40 گھنٹوں میں حل کر لیا۔

اس کیس کے تمام مرکزی کردار، جن میں صدف، اس کی ماں، اس کا بھائی جبران اور قاتل شیزان شامل ہیں، اب پولیس کی گرفت میں ہیں۔ پولیس نے آلہ قتل اور جائے وقوعہ سے ملنے والے خول کو فرانزک کے لیے بھیج دیا ہے تاکہ عدالت میں ٹھوس شواہد پیش کیے جا سکیں۔

لمحہ فکریہ

نیو کراچی کا یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکر یہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب اخلاقی اقدار ختم ہو جاتی ہیں اور ناجائز تعلقات انسانی رشتوں پر غالب آ جاتے ہیں، تو اس کا انجام اسی طرح کی ہولناکی پر ہوتا ہے۔ ریحان کا قصور شاید صرف اتنا تھا کہ اس نے ایک ایسی عورت پر بھروسہ کیا جو اپنے ماضی سے پیچھا چھڑانے کے بجائے اسے ساتھ لے کر چل رہی تھی، اور ایک ایسی ساس کے گھر داماد بن کر گیا جو ممتا کے روپ میں ایک قاتلہ تھی۔

اگر آپ وڈیو دیکھنا چاہتے ہیں تو ابھی کلک کریں

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.