کراچی: بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پانی کے بحران پر سیاسی جماعتوں کا شدید احتجاج، سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر

Karachi facing severe power and water crisis.

کراچی میں جاری بدترین لوڈ شیڈنگ اور پانی کی شدید قلت نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور مسلم لیگ فنکشنل نے بجلی کے بحران پر حکومت اور کے الیکٹرک کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ جماعت اسلامی نے اورنگی ٹاؤن میں پانی کے مسئلے پر سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ شہر قائد کے مختلف علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور پانی کی عدم فراہمی سے نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کا احتجاج اور الٹی میٹم

ایم کیو ایم پاکستان کی مرکزی کمیٹی نے ایک ہنگامی بیان میں کہا ہے کہ کراچی میں 12 سے 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ عوام کے ساتھ ظلم کی انتہا ہے۔ کمیٹی کے مطابق، شہر میں میٹرک کے امتحانات جاری ہیں اور طلبہ شدید گرمی و حبس میں پرچے دینے پر مجبور ہیں، جو کے الیکٹرک کی بے حسی کا ثبوت ہے۔ ایم کیو ایم نے خبردار کیا ہے کہ اگر لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ فوری بند نہ ہوا تو وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کے لائسنس کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔

مسلم لیگ فنکشنل کی تشویش

پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل سردار عبد الرحیم نے بھی سندھ بھر میں بجلی کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے اور دوسری طرف طویل لوڈ شیڈنگ نے غریب کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ راتوں کو بجلی نہ ہونے سے بچوں کی نیند متاثر ہو رہی ہے جس کا اثر ان کی تعلیم پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی عیاشیاں چھوڑ کر عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کریں۔

اورنگی ٹاؤن پانی بحران: جماعت اسلامی عدالت پہنچ گئی

دوسری جانب، اورنگی ٹاؤن میں پانی کے سنگین بحران کے خلاف جماعت اسلامی کے منتخب نمائندوں نے سندھ ہائیکورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کر دی ہے۔ یو سی 6 کے چیئرمین حاشر عمر اور ٹی ایم سی اورنگی کے اپوزیشن لیڈر زاہد اقبال نے مؤقف اختیار کیا کہ اورنگی کی آدھی آبادی بوند بوند کو ترس رہی ہے۔ زاہد اقبال کا کہنا تھا کہ پمپنگ اسٹیشن سے صرف 5 گھنٹے پانی دیا جاتا ہے اور کئی علاقوں میں باری 6 سے 7 ماہ بعد آتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پانی کا کوٹہ بڑھا کر 32 گھنٹے کیا جائے اور نلکوں میں پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

عوامی صورتحال اور مستقبل کا خدشہ

کراچی کے شہری اس وقت دوہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔ حبس زدہ موسم میں بجلی نہ ہونے سے اسپتالوں میں مریضوں اور گھروں میں بزرگوں کا حال بے حال ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نلکوں میں پانی نہیں آتا لیکن مہنگے داموں ٹینکرز دستیاب ہیں، جو انتظامیہ کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ اداروں نے فوری اقدامات نہ کیے تو شہر میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.