مراد علی شاہ کا 45 ارب روپے کے SDGs پروگرام کا جائزہ، 1082 اسکیمیں شروع، پانی و صفائی اولین ترجیح

Murad Ali Shah SDGs program update: 45 ارب منصوبہ، 1082 اسکیمیں شروع، پانی و صفائی ترجیح، 2026-27 تک تکمیل ہدف

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 45 ارب روپے کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پروگرام پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ صوبے بھر میں 1082 ترقیاتی اسکیمیں شروع کی جا چکی ہیں جن میں سے 928 کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ 895 اسکیموں کے لیے فنڈز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 25.93 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں جن میں سے 9.72 ارب روپے کے اخراجات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبے آئندہ دو سال یعنی 2026-27 تک ہر صورت مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے سڑکوں کی انفرادی اسکیموں پر پابندی عائد کرتے ہوئے ہدایت دی کہ صرف جامع اور مربوط منصوبوں کو ہی پروگرام میں شامل کیا جائے۔

یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی و آبپاشی جام خان شورو، چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) 2025-26 کے تحت مختص 45 ارب روپے سے SDGs سے ہم آہنگ ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کی جا رہی ہے جبکہ مجموعی پورٹ فولیو کا تخمینہ 89 ارب روپے سے زائد ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہر اسکیم کی مجموعی لاگت کا 50 فیصد رواں مالی سال کے دوران جاری کیا جائے گا جبکہ بقیہ فنڈز مالی سال 2026-27 میں فراہم کیے جائیں گے تاکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔

پانی اور صفائی اولین ترجیح قرار

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ہدایت دی کہ تمام مجوزہ اسکیموں میں کم از کم 50 فیصد پانی کی فراہمی اور سیوریج یعنی WASH سیکٹر پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے صاف پانی اور صفائی ستھرائی تک رسائی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ محفوظ پینے کے پانی اور مناسب نکاسی آب کی سہولیات عوامی صحت اور انسانی وقار کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے مزید ہدایت دی کہ کوئی بھی الگ تھلگ سڑک اسکیم شامل نہ کی جائے اور تمام منصوبے زمینی حقائق، عوامی ضروریات اور حقیقت پسندانہ لاگت کے مطابق تیار کیے جائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 200 ملین روپے سے زائد لاگت کی اسکیموں کی منظوری صوبائی ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (PDWP) دے گی جبکہ اس سے کم لاگت کے منصوبے محکمانہ ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (DDWP) سے منظور کیے جائیں گے۔

شفافیت اور مالیاتی نظم و ضبط پر زور

وزیراعلیٰ سندھ نے سختی سے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں میں مالیاتی نظم و ضبط اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اسکیم کی لاگت میں غیر ضروری اضافہ یا تبدیلی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام منصوبے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت، ضرورت کی بنیاد پر اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے چاہئیں۔

انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کیا جائے، مؤثر نظام کے تحت ان کی نگرانی کی جائے اور منظور شدہ PC-I کے مطابق سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔

ترقی کا اصل مقصد عوام کو فائدہ پہنچانا ہے

اجلاس میں بتایا گیا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی اسکیموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو شہری بنیادی ڈھانچے پر حکومتی توجہ کا مظہر ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار تیز کی جائے اور جاری فنڈز کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو واضح ریلیف مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی کا مطلب صرف اسکیموں کی منظوری نہیں بلکہ ان کی بروقت تکمیل اور عوام کو سہولیات کی فراہمی ہے۔ ہر خرچ ہونے والا روپیہ عوام کے لیے ٹھوس فوائد میں تبدیل ہونا چاہیے۔ انہوں نے اضلاع میں اسکیموں کی منصفانہ تقسیم پر بھی زور دیا اور تاخیر یا نااہلی سے بچنے کے لیے سخت نگرانی کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ SDGs محض عالمی وعدے نہیں بلکہ سندھ کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کا ایک جامع روڈ میپ ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.