اسرائیل میں انفیکشن کے کیسز میں تشویشناک اضافہ، ایران اور حزب اللہ کے خلاف جنگ کے دوران 6 ہزار سے زائد افراد متاثر

 


یروشلم: ایران اور حزب اللہ کے خلاف جاری شدید جنگ کے دوران اسرائیل میں انفیکشن کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 

اسرائیلی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 6,131 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگی حالات اور نقل مکانی کے باعث حفظانِ صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ان کیسز میں سے ایک بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو میزائل حملوں کے دوران محفوظ پناہ گاہوں میں منتقلی کے وقت زخمی ہوئے یا جنگی تناؤ کے باعث نفسیاتی مسائل اور انفیکشن کا شکار ہوئے۔ 

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی سیکڑوں نئے مریضوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ حیفہ، تل ابیب اور دیگر شمالی شہروں کے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور حزب اللہ کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کے نتیجے میں نہ صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر شہری آبادی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ 

اسرائیلی فوج اور امدادی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں تاہم انفیکشن کے بڑھتے ہوئے کیسز نے حکومت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو متاثرین کی تعداد میں مزید کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔


کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.