سندھ کابینہ کا اہم اجلاس: گندم کی قیمت مقرر، کراچی اور کچے کے لیے بڑے منصوبوں کی منظوری

Sindh cabinet meeting

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گندم کی خریداری، کچے کے علاقوں میں امن و امان اور کراچی کے ترقیاتی منصوبوں سمیت کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں صوبائی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جہاں عوام کی سہولت اور صوبے کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی۔

گندم کی خریداری اور کچے کا سروے
سندھ کابینہ نے کسانوں کے فائدے کے لیے گندم کی سرکاری قیمت 3,500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کر دی ہے۔ اس سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ہدف رکھا گیا ہے اور رقم براہ راست ہاریوں کے بینک اکاؤنٹس میں بھیجی جائے گی۔ اس کے علاوہ، کچے کے علاقوں (دریائی پٹی) میں جرائم کے خاتمے اور زمینوں کا درست ریکارڈ رکھنے کے لیے جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے سروے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس پر 705 ملین روپے لاگت آئے گی۔

کراچی کے لیے بڑے اعلانات
کراچی میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے 'کے فور' منصوبے کے بجلی کے کاموں کے لیے 13.9 ارب روپے کی گرانٹ منظور کی گئی ہے۔ اجلاس میں لیاری کی سڑکوں اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 1.45 ارب روپے، جبکہ ملیر ہالٹ سے گھگھر پھاٹک تک سڑک کی مرمت کے لیے 2.55 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شہر میں امن و امان کے لیے 'سیف سٹی پروجیکٹ' کو بھی جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

تعلیم، صحت اور ثقافت
کابینہ نے صحت کے شعبے میں نوابشاہ میں گردوں کے علاج کے لیے 'بی آئی یو ٹی' اور کراچی میں ماں و بچے کی صحت کے لیے 'ایس آئی آر ایچ' نامی خود مختار ادارے بنانے کی منظوری دی۔ تعلیم کے لیے تھر میں این ای ڈی یونیورسٹی کے کیمپس اور سندھ بھر کے طلبہ کی فیسوں کی واپسی کے لیے اربوں روپے جاری کیے جائیں گے۔ مزید برآں، کراچی کے ساحل کے قریب ایک جدید میوزیم بنایا جائے گا جو سندھ کی 5 ہزار سالہ تاریخ کی عکاسی کرے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے تمام منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی تاکید کی تاکہ عوام کو ان کے ثمرات جلد مل سکیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.