اوچھے ہتھکنڈے

NAB arrests Opposition Leader Shahbaz Sharif - Photo Courtesy Twitter

تحریر: شاہد انجم

پاکستان کا شمار دنیا کے ان عظیم ممالک میں ہوتا ہے جہاں چاروں موسم اپنے وقت پر آتے ہیں جہاں ہر طرح کا پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس، ہرے بھرے کھیت دیکھنے کو ملتے ہیں، ملک کے بعض علاقے چاول کی فصل سے متعلق اپنی شناخت رکھتےہیں، ملک کا ہر باشندہ اور بالخصوص گاؤں دیہات کے لوگ اس سے بخوبی واقف ہیں کہ چاول کی فصل کو وافر پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور چاول کی فصل انگریزی کیلنڈر کے حساب سے جون اور جولائی میں کاشت کی جاتی ہے۔

اللہ دتہ اور غلام علی جو کہ اپنے خاندان کے دیگر چار بھائیوں میں پڑھے لکھے تھے والد کی وفات کے بعد ان کے حصے میں جو زمین آئی اس میں پانی کی تقسیم بھی شامل تھی۔ دیگر بھائی جو کہ پڑھے لکھے نہیں تھے، ان کا انحصار صرف کھیتی باڑی پر تھا۔

اللہ دتہ اور غلام علی نے ایک منصوبہ بنایا کہ انہیں چاول کی فصل کے لئے چونکہ زیادہ پانی کی ضرورت ہے اور ان کے حصے کا موجودہ پانی بہت کم ہے، لہذا وہ چاول کی فصل کی پیداوار کے وقت دیگر بھائیوں سے معمولی تکرار کرکے سیاسی اثر رسوخ استعمال کرنے کے ساتھ  علاقے کے سیکورٹی اہلکاروں سے بھی ہاتھ ملا کر معمولی نوعیت کے جھوٹے مقدمات درج کروائیں گے تاکہ دیگر بھائی پکڑے جائیں اور جب تک ان کی ضمانتیں ہوں گی تب تک ان کے حصے کا پانی بھی وہ استعمال کرسکیں گے۔

یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا اور دونوں بھائیوں نے اپنی اس طاقت کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔  علاقے کے بعض لوگ ان کی اس حرکت پر انہیں شرمندہ بھی کرتے مگر انہیں ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ اپنی اس ناجائز حرکت پر ڈھٹائی سے اڑے رہتے اور خوشیاں مناتے۔

شاید انہیں یہ علم نہیں تھا کہ اس طرح کی ناانصافی کا انجام اچھا نہیں ہوتا، ایک روز انہیں اس بات کا اندازہ ہوگا کہ انہوں نے جو بھی فصل بوئی ہے اسے خود ہی کاٹنا بھی ہوگا۔

اللہ دتہ اور غلام علی کی کئی برسوں تک اس زیادتی کی داستان بھی موجودہ حکومت کی طرح نظر آتی ہے۔ ملک میں عام انتخابات کے وقت محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز، داماد صفدر کو گرفتار کرلیا گیا تھا تاہم بڑی عدالت نے ان پر الزامات کو کو ایک جانب رکھتے ہوئے رہائی کا حکم دیا۔ اب حکومت کی کارکردگی بھی آہستہ آہستہ عوام کے سامنے آنے لگی ہے۔ اس بار بھی خوف ہے کہ کہیں  حکومت ضمنی انتخابات میں ہار نہ جائے، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے بڑے بڑے جغادریوں کے ٹی وی پر تبصروں اور اخبارات کی شہ سرخیوں سے واضح ہوگیا ہے کہ شہباز شریف کو جس مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے اس سے ان کا تعلق ہی نہیں بنتا۔  یہاں سوال یہ ہے کہ آخر نیب کا ادارہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ کس کے کہنے پر کر رہا ہے؟ کیا کل اگر وہ عدالت میں اس کے ثبوت پیش نہ کر پایا تو پھر اس پر بھی سوال اٹھیں گے کہ اس جانب داری کا مظاہرہ کیوں کیا گیا۔

کل آئینہ دیکھ کر شرمندہ ہونے کے بجائے آج ہی ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے کہ اللہ دتہ اور غلام علی کی طرح ڈھٹائی سے کام نہ لیں اس لئے کہ ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ذرا سو چئیے



اس تحریر کے مصنف شاہد انجم کہنہ مشق صحافی ہیں اور جرائم کی کوریج میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ شاہد انجم سے ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مندرجہ بالا تحریر خبر کہانی کی ایڈیٹوریل پالیسی کی عکاس نہیں اور خبرکہانی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.