ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگی مقاصد جلد مکمل ہونے کا دعویٰ، قوم سے خطاب

US President Donald Trump claims Iran war goals are nearly accomplished

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی رات قوم سے ایک اہم خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری ایک ماہ طویل جنگ کے بنیادی فوجی مقاصد تقریباً پورے ہو چکے ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے نشر ہونے والے 19 منٹ کے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور اب یہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ آپریشن 'ایپک فیوری' (Operation Epic Fury) کے تحت ایرانی میزائل پروگرام اور جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی مسلح افواج نے میدانِ جنگ میں ایسی کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے اہم دہشت گرد رہنما مارے جا چکے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔ صدر کے مطابق ایران کی میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ان کی اسلحہ فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس آپریشن کا مقصد ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اور خطے میں اس کی مداخلت ختم کرنا تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ اگلے دو سے تین ہفتوں تک ایران پر مزید سخت حملے جاری رہیں گے تاکہ اسے دوبارہ سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا جائے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ہم ایران کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے قریب ہیں اور اب تمام پتے امریکہ کے ہاتھ میں ہیں۔"

جنگ کے باعث عالمی سطح پر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس کا ذمہ دار ایرانی کارروائیوں کو قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو کھولنے کی ذمہ داری اب ان ممالک پر ہے جو وہاں سے تیل حاصل کرتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ امریکا نہ وہاں سے تیل خریدتا ہے اور نہ ہی اسے آبنائے ہرمز کھلوانے کی ضرورت ہے۔ 

صدر نے نیٹو (NATO) کے حوالے سے براہ راست بات تو نہیں کی، تاہم اتحادیوں کی جانب سے جنگ میں تعاون نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ امریکی حکام کے مطابق فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔خطاب کے آخر میں صدر نے کہا کہ امریکہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک تمام فوجی اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میں عوامی سطح پر جنگ کی مخالفت بڑھ رہی ہے اور پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ اگرچہ صدر نے جنگ ختم کرنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی، لیکن انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند ہفتوں میں فوجی آپریشن مکمل کر لیا جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.