قاسم سلیمانی کی بھانجی اور ان کی بیٹی امریکہ میں گرفتار، گرین کارڈ منسوخ
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، گرفتار ہونے والی خواتین کی شناخت حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کے نام سے ہوئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں خواتین اس وقت 'یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ' (ICE) کی تحویل میں ہیں۔
حمیدہ سلیمانی پر الزام ہے کہ وہ امریکہ میں رہتے ہوئے ایرانی حکومت کے حق میں پروپیگنڈا کرنے اور امریکی فوج کے خلاف بیانات دینے میں ملوث تھیں۔حمیدہ سلیمانی افشار لاس اینجلس میں پرتعیش زندگی گزار رہی تھیں، تاہم ان پر نظر رکھی جا رہی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر امریکی مفادات کے خلاف سرگرم تھیں اور انہوں نے مبینہ طور پر امریکی فوجیوں پر حملوں کی حمایت کی تھی۔ اسی بنا پر وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ان کی مستقل رہائش کی حیثیت ختم کر دی، جس کے فوری بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ ایران کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے ہوائی اڈے پر ایک امریکی ڈرون حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ وہ حملہ اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں کیا گیا تھا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایرانی حکام کے اہل خانہ کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ان غیر ملکیوں کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دے گا جو امریکی مخالف نظریات یا دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان خواتین کی گرفتاری کے بعد اب انہیں ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Post a Comment