اپنے آپ سے ملنے کا وقت

Mother of three children


دوست کے اس جملے نےجیسے جسم میں نشتر سے چبھودیئےہوں۔۔۔

دوست بھی آخرکیا کریں۔۔کتنی بار مجھے آگے بڑھنے کے لئے حوصلہ دیتے رہے۔۔

بار بار فون کالز اورمیسجز پر بھی رابطہ کرتے رہے۔۔رابطے میں رہنے کے لئے نئے نئے جواز ڈھونڈتے رہے۔۔مگر میں ہر بار کیطرح  وعدہ کرتی اور لاکھ کوشش کے باوجود کسی محفل، کسی اسٹڈی گروپ میں شامل نہیں ہوپائی۔۔۔مگر وہ پھر بھی رابطے میں رہے۔۔۔ایسے مخلص کہاں ملتے ہیں۔۔

ہاں واقعی ایسے مخلص دوست کم ہی ملتےہیں۔۔

مگر۔۔۔

میں کیا بتاؤں ۔۔عجیب سی بات ہے ۔۔ مجبورہوں  نہ لاچار۔۔ پھر بھی ان دیکھی ذمہ داریاں، ان دیکھے بوجھ کاندھوں پر لیے ہوئے ہوں۔۔۔

کیا بتاؤں کہ تین بچوں کی ماں ہوں، جاب بھی کرتی ہوں،،جاب بھی ایسی کہ دنیاکی ہرخبرسے باخبر رہنا ضروری ہے۔۔

پھر گھرجاؤں توراستے سے گھرکا سوداسلف لانا یاد رکھناہے۔کیا پکانا ہے یہ روز کا سوال ہے۔۔

کھانا بناناہے، اسکول ٹیوشن سے اپ ڈیٹ رہناہے، چھوٹا بیٹا ایک سال کاہواہے۔دانت نکالے یا گر جائے ہر صورت اس کا خیال رکھنا ہے۔۔گھر جاؤں تو  کاموں کو انبار سرپر رہتاہے۔۔

کیسے بتاؤں کہ دوستوں سے ملنےکا خیال ، کچھ نیا سیکھنے کی جستجو دل ہی دل میں پنپتی ہے۔۔۔شاید اسی لئے زندہ ہونےکاخیال بھی آتاہے۔۔۔

زندہ ہوں توخواہشیں ہیں۔۔مگر خواہشیں خواب بن رہی ہیں ۔۔سراب بن رہی ہیں۔۔۔

کبھی قلم اٹھانے کودل تڑپتا ہے۔۔کبھی کیمرہ اٹھانے کو دل مچلتاہے۔۔کبھی برش کےلئے ہاتھ آگے بڑھتے ہیں۔۔

لیکن انہی خواہشوں کےساتھ گھرکی جانب لوٹیں تو بانہیں پھیلائیں بچے ساری دنیا بھلا دیتے ہیں۔۔سارے دن کی شکایتیں ، کہانیاں ،سناتے ہیں۔۔جو مسکراہٹ دیکھنے کو ملتی ہے وہ اس قدر انمول لگتی ہے کہ سب خواب دھندلاجاتے ہیں۔۔

سب ٹھیک کہتےہیں کہ ہم مائیں آگے کیوں نہیں بڑھ  پاتیں۔۔وقت کا ستم یہ ہے کہ وقت مل  نہیں رہا۔۔ کہاں گزر رہا،کیسے گزر رہاہےیہ بھی نہیں سمجھ پارہی ۔۔ریت کی طرح بس پھسلتا جارہاہے۔۔اب اسے وقت کی ستم ظریفی کہوں تو ناشکری کا ڈر لگتاہے۔۔اگر وقت نہیں مل پارپاتو رب کی دی گئی نعمتوں کی وجہ سے نہیں مل پارہاکہ ان کا حساب بھی ہوگا۔۔یہ بچے جو ذمہ داری ہیں انہیں اپنے خوابوں کی تکمیل کےلئےکچھ وقت کےلئے سہی چھوڑ دوں کیا؟

ماؤں کا مسئلہ یہی ہےکہ جہاں اپنے لئے کوشش کریں توسماج انہیں لاپروا خودغرض کہتاہے۔۔

لیکن یہی ماں اگر ذمہ داری پوری کرےاورخواہش کوروکے بیٹھے توویلیوہی کھودیتی ہیں۔۔۔

ملازمت کےساتھ بچےاورگھردوہری ذمہ داری ہوتی ہے۔۔کوئی توان ماؤں کوسراہے جو دن رات ڈیوٹی دیتی ہیں ۔۔صلہ نہ سہی دو لفظ حوصلہ افزائی کے من کے ماری ماؤں کوز ندہ کرسکتے ہیں ۔بقول شاعر

جنہیں تم کہہ نہیں سکتے،جنہیں تم سن نہیں سکتے

وہی باتیں ہیں کہنےکی ، وہی باتیں ہیں سننے کی

ہاں ہم آگے بڑھنے کی کوششوں میں ہیں۔۔۔رینگتے گھسٹتے ہی صحیح لیکن۔۔۔ ان ذمہ داریوں سے تھوڑا نمٹ لیں۔۔

ہم اپنے آپ کوبھولے نہیں، مگر ان چھوٹے چھوٹے ڈگمگاتے قدموں کودرست سمت تو لے جانے دو۔۔۔کل کلاں یہ نہ کہیں کہ ماں نے اپنی خواہشیں دیکھیں اور ہمارا مستقبل داؤ پر لگادیا۔۔ کسک ضرور ہے دل میں مگراپنے آپ سےملنےکا وقت بھی کچھ عرصے بعد مل ہی جائےگا۔


 اس تحریر کی مصنفہ مفلحہ رحمان صحافت اور پریس فوٹوگرافی کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ مفلحہ رحمان مختلف اداروں میں کام کرچکی ہیں اور ان کی تحاریر ملک کے موقر اخبارات، رسائل اور جرائد میں شایع چکی ہیں۔ مفلحہ رحمان سے ٹوئیٹر پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔  Muflehaaa@

مندرجہ بالا تحریر خبر کہانی کی ایڈیٹوریل پالیسی کی عکاس نہیں اور خبرکہانی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.