جگجیت سنگھ کی دھوتی

Abhinandan, Indian pilot who became prisoner of war in 2019 brief war between India and Pakistan

تحریر : شاہد انجم

جسم پر تیل کی مالش، تین وقت اٹھک بیٹھک، پہلوان کو تیار کرنے کے لئے تین تین جوان ورزش کرانے کو تیار، اچھی خوراک کھلائی جارہی ہے، بلا وجہ سفر نہ کرنے کی ہدایت، چار وقت موسمی اور تازہ پھلوں کا جوس، مکروہ جانوروں کا سوپ اور یخنی کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا تھا۔

 آخر کیا ہونے والا ہے؟ جو اتنی خوراک ایک جسم میں انڈیلی جارہی ہے؟ جسم میں اتنی چکناہٹ پیوست کی جارہی ہے کہ جسم کو چھونے والی ہر چیز پھسل جائے یہ کیا تھا؟

معلوم ہوا کہ جگجیت کو تیار اس لئے تیار کیا جارہا ہے کہ چند روز بعد گاؤں میں کبڈی کا اکھاڑہ لگنے والا ہے۔ آخر کار وہ وقت آہی گیا دونوں اطراف سے کبڈی کے کھلاڑی میدان میں اترے اور شوقین تماشائی ڈھول کی تھاپ پر ناچتے اکھاڑے کے باہر پہنچنا شروع ہوگئے۔

 گاما سیٹی بجا رہا تھا کہ دونوں ٹیمیں اپنے اپنے کھلاڑی لے کر میدان میں آجائیں تاکہ میچ کا آغاز کیا جائے۔ چند منٹ کے بعد دونوں اطراف کے کھلاڑیوں نے اپنا اپنا تعارف کرایا جس کے بعد میچ کا آغاز ہوگیا۔

دونوں طرف سے کھلاڑی اپنی باری لے رہے تھے جگجیت بھی اپنے مغرور جسم کے ساتھ اکھاڑے میں گھوم رہا تھا کہ اچانک اعلان ہوا کہ مخالفین میں کوئی ایسا پہلوان موجود ہے جو جگجیت کو بھاگتے ہوئے روک سکے جس پر ایک نوجوان جو دیکھنے میں بہت کم عمر لگ رہا تھا مگر اس کا چہرہ بہت مطمئن تھا، اس کی آنکھوں میں جیت کی لگن تھی، اپنے جذبے کے ساتھ نکلا اور کہا کہ میں جگجیت کا مقابلہ کرتا ہوں۔

مقابلے کا وقت شروع ہوا تو جگجیت نے اپنی موچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے نوجوان سے کہا  کہ تم میرا کیا مقابلہ کر پاؤ گے۔ بہرحال پنجہ آزمائی شروع ہوئی تو نوجوان نے چند ہی لمحوں میں جگجیت کو پلٹ دیا اور اسی دوران جگجیت کی دھوتی اتر گئی اور اس کا سارا غرور مٹی میں مل گیا۔

 تماشائیوں کی طرف سے تالیاں بج رہی تھیں اور نوجوان کو داد دی جارہی تھی جبکہ دوسری طرف جگجیت سنگھ اتری دھوتی کے ساتھ زمین پر پڑا تھا اور اب وہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے والی مثال کی طرح دھوتی کو سر پر باندھ کر ناچتے ہوئے اپنی ٹیم کی طرف جارہا تھا۔

 جگجیت کی اس حرکت پر تماشائی اور کھلاڑیوں نے شیم شیم کے نعرے لگائے جبکہ اکھاڑے کے اطراف میں بعض معززین کا یہ کہنا تھا کہ جگجیت بے شک مغرور ہے یا مخاف ٹیم کا بھی کھلاڑی ہے مگر اس کا احترام ہونا چاہیے۔

 کبڈی کے کہ اس میچ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مجھے پاکستان اور بھارت کی حالیہ کشیدگی اور بھارت کی دراندازی یاد آرہی ہے جوکہ جگجیت سنگھ کی طرح ایک مغرور کھلاڑی بن کر میدان میں اترا مگر اسے منہ کی کھانی پڑی اور پاک سر زمین کی دھول چاٹنے کے بعد بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔

مودی سرکار کا چیلا بھارتی میڈیا آج بھی اپنی اتری ہوئی دھوتی کو سر پر باندھ کر  فخر محسوس کررہا ہے جبکہ اسے یہ معلوم بھی ہے کہ دھوتی اترنے کے بعد وہ کتنا بے پردہ ہوچکا ہے۔



اس تحریر کے مصنف شاہد انجم کہنہ مشق صحافی ہیں اور جرائم کی کوریج میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ شاہد انجم سے ان کے فیس بک اکاؤنٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
مندرجہ بالا تحریر خبر کہانی کی ایڈیٹوریل پالیسی کی عکاس نہیں اور خبرکہانی کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

1 تبصرہ:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.