سندھ کابینہ کا گندم کے آبادگاروں کے لیے بڑا ریلیف، ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کا اعلان

 سندھ کابینہ کا گندم کے آبادگاروں کے لیے بڑا ریلیف، ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کا اعلان

کراچی، یکم ستمبر 2026: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سی ایم ہاؤس میں صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ربیع 2026-27ء کے دوران گندم کے آبادگاروں کو ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی اور مالی معاونت فراہم کرنے سے متعلق اہم تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران 25 ایکڑ تک اراضی رکھنے والے چھوٹے آبادگاروں کو ہدفی معاونت فراہم کرنے اور سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام کے تحت شفافیت یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل تصدیق کے جامع منصوبے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈی اے پی کھاد کی متوقع خوردہ قیمت 17,904 روپے فی بوری مقرر کی گئی ہے، جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے 3,500 روپے فی بوری سبسڈی تجویز کی گئی ہے جو کہ کل قیمت کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ محکمہ خوراک کو گندم فروخت کرنے والے اور دیگر اہل چھوٹے آبادگاروں کو خصوصی مراعات اور سپورٹ پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے نئے آبادگاروں کی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود ریکارڈ کی دوبارہ ڈیجیٹل توثیق کی جائے گی تاکہ جعلی یا غیر اہل افراد کو نکال کر سبسڈی صرف حقیقی مستحقین تک پہنچائی جا سکے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ سبسڈی پروگرام کے تحت 3 لاکھ 33 ہزار 127 آبادگاروں کو ڈی اے پی جبکہ 3 لاکھ 14 ہزار 317 آبادگاروں کو یوریا پر سبسڈی دی گئی، جس کے باعث سال 26-2025ء کے دوران صوبے میں گندم کی فصل اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کابینہ نے آئندہ گندم کی فصل کے لیے کم از کم امدادی قیمت مقرر کرنے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا اور ذیلی کمیٹی کو حتمی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ سبسڈی پروگرام کو مکمل طور پر شفاف، ٹیکنالوجی پر مبنی اور چھوٹے کسانوں کے لیے فائدے مند بنایا جائے تاکہ صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

کوئی تبصرے نہیں

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.