دادو میں 24 ہزار 838 بوریاں گندم غائب، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر برطرف
کراچی، 30 اگست 2026: سندھ کے ضلع دادو میں سرکاری گندم کے ذخائر میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر محکمہ خوراک نے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر دادو منصور احمد میرانی کو ملازمت سے برطرف کردیا۔
محکمہ اطلاعات سندھ کی جانب سے 30 اگست کو جاری کردہ بیان کے مطابق محکمہ خوراک کی تحقیقات میں دادو کے پرکیورمنٹ ریسپانس سینٹر (پی آر سی) سیتا روڈ سے 24 ہزار 838 گندم کی بوریاں غائب پائی گئیں۔
محکمہ خوراک کے مطابق دادو کے مختلف مراکز پر فصل سال 2022-23 اور 2023-24 کے سرکاری گندم ذخائر میں بھی بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
محکمہ کی تحقیقات کے مطابق سرکاری گندم بعض نجی تاجروں، فلور ملوں اور چکیوں کو پیشگی ادائیگی کے چالان کے بغیر جاری کی گئی، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔
صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزماں کے مطابق سرکاری نقصان کی وصولی کے لیے معاملہ محکمہ اینٹی کرپشن سندھ کے حوالے کردیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ سرکاری گندم عوام کی امانت ہے اور خردبرد میں ملوث کسی افسر یا اہلکار سے رعایت نہیں کی جائے گی۔
دادو میں اس نوعیت کا معاملہ پہلے بھی سامنے آچکا ہے
دادو میں سرکاری گندم کے ذخائر سے متعلق بے ضابطگیوں کا معاملہ نیا نہیں ہے۔ جنوری 2023 میں ڈان نے محکمہ خوراک کے ذرائع اور ایک محکمانہ انکوائری رپورٹ کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ اس وقت کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر دادو منصور احمد میرانی نے چھ ماتحت اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تھی۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق میرانی نے گوداموں کا معائنہ کیا تو ایک لاکھ 50 ہزار 100 کلوگرام والی گندم کی بوریاں حساب میں موجود نہیں تھیں۔ رپورٹ میں محکمانہ انکوائری کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ متعلقہ اہلکاروں نے گندم کے ذخائر تاجروں کو کم قیمت پر فروخت کیے تھے۔ یہ معاملہ اس وقت کی محکمانہ انکوائری کے نتائج اور محکمہ خوراک کے ذرائع سے منسوب کیا گیا تھا، اسے کسی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
2023 میں بھی دادو میں گندم کے خلاف کارروائی
مئی 2023 میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی مشترکہ کارروائی کے دوران دادو میں مختلف مقامات پر چھاپے مار کر 3 ہزار بوریاں گندم قبضے میں لینے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی گندم ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف سندھ بھر میں جاری آپریشن کا حصہ تھی، جس میں نوشہروفیروز، دادو اور جامشورو سے مجموعی طور پر 9 ہزار بوریاں قبضے میں لی گئی تھیں۔
2026 میں بھی محکمہ خوراک کی کارروائیاں
موجودہ کارروائی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب رواں سال بھی سندھ میں گندم کے سرکاری ذخائر سے متعلق بے ضابطگیوں پر محکمانہ کارروائیاں ہوتی رہی ہیں۔
مارچ 2026 کی ایک رپورٹ میں دادو کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر منصور میرانی کو گندم کے غائب ہونے، وزن میں کمی اور دیگر معاملات پر شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔
جولائی 2026 میں سندھ محکمہ خوراک کے متعدد اہلکاروں کو گندم کی مبینہ خردبرد کے معاملے میں برطرف کیے جانے کی خبر بھی سامنے آئی۔ ڈان نے اس کارروائی کو 5 ارب روپے سے زائد مالیت کی گندم کی خردبرد کے اسکینڈل سے متعلق قرار دیا تھا۔
کارروائی کے باوجود بنیادی سوال
دستیاب ریکارڈ سے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حکومت نے گندم کی خردبرد کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ اس کے برعکس مختلف برسوں میں محکمانہ تحقیقات، اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور گندم قبضے میں لینے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
لیکن دادو میں آج سامنے آنے والا 24 ہزار 838 بوریاں غائب ہونے کا معاملہ یہ سوال ضرور اٹھاتا ہے کہ ماضی کی کارروائیوں کے باوجود سرکاری گندم کے ذخائر میں ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے نگرانی کا نظام کس حد تک مؤثر ہے۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ جنوری 2023 میں ڈان کی رپورٹ میں بھی دادو کے گندم ذخائر میں بڑی کمی کی نشاندہی محکمانہ انکوائری کے حوالے سے کی گئی تھی، جبکہ مارچ 2026 میں بھی دادو کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کے خلاف گندم کے غائب ہونے اور وزن میں کمی سے متعلق شوکاز نوٹس کی اطلاع سامنے آئی تھیں۔

Post a Comment